ایران کیساتھ جنگ بندی ختم۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

,

   

انقرہ (ترکیہ )/8 جولائی (ایجنسیز)امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی اور مفاہمتی عمل کو عملاً ختم قرار دیتے ہوئے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ ان کے اس غیر متوقع اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی، خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 سے 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ یورپی اسٹاک مارکیٹوں میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ ماہرین معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی تو پوری دنیا ایک نئے معاشی بحران اور مہنگائی کی لہر کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔ ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے نزدیک ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی یادداشت (MOU) اور جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ ‘‘میرے خیال میں ایران کے ساتھ بات چیت ختم ہو چکی ہے۔ میں ایران کے ساتھ مزید مذاکرات نہیں کرنا چاہتا۔ ان سے مذاکرات وقت کا ضیاع ہیں۔’’ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے حالیہ رات ایران میں فوجی کارروائی اس لیے کی کیونکہ ایران کی جانب سے حملے کیے گئے تھے اور ان کا جواب دینا ضروری تھا۔ ان کے مطابق ‘‘ہم نے پہلے ہی ایران کو خبردار کر دیا تھا کہ اگر وہ حملہ کرے گا تو امریکہ بھی بھرپور جواب دے گا۔’’ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری صلاحیت سے محروم کرنا ہے اور واشنگٹن کسی بھی صورت ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے کہاکہ ‘‘اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار آ گئے تو وہ ضرور استعمال کرے گا، اسی لیے ہم اسے ہر قیمت پر روکیں گے۔’’ امریکی صدر نے ایرانی قیادت پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں ‘‘انتہائی خطرناک لوگ’’ قرار دیا۔ انہوں نے ایران کو ‘‘کینسر’’ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہاکہ *’’کینسر کا علاج یہی ہوتا ہے کہ اسے ابتدا ہی میں ختم کر دیا جائے، ایران کے بارے میں بھی میری یہی سوچ ہے۔’’ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کی سابق فوجی قیادت ختم ہو چکی ہے اور وہاں نئی قیادت سامنے آ رہی ہے، تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی کسی آزاد ذریعے سے اس کی تصدیق ہو سکی ہے۔ صدر ٹرمپ نے نیٹو کے کردار پر بھی ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملے میں نیٹو نے امریکہ کی توقعات کے مطابق تعاون نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نیٹو کا سب سے بڑا مالی معاون ہے، اس لیے دیگر رکن ممالک کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ ٹرمپ نے کہاکہ ‘‘امریکہ کو نیٹو کی اتنی ضرورت نہیں جتنی نیٹو کو امریکہ کی ہے۔’’ انہوں نے اسپین پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس وقت وہ اسپین کے ساتھ تعلقات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، تاہم اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔ ٹرمپ کے بیان اور امریکہ و ایران کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔
خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا: برینٹ کروڈ تقریباً 78.64 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ امریکی خام تیل (WTI) تقریباً 74.85 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ مربان کروڈ بھی بڑھ کر 73.22 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔