ایران کے پاس نیوکلیر بم گریڈ کی افزودہ یورینیم ہونے کا انکشاف

   

83 فیصد سے زائد یورینیم کے افزودہ ذرات ملے ہیں،جوہری بم کیلئے 90 فیصد کی ضرورت:آئی اے ای اے
ویانا: ایران کے پاس جوہری بم کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والی افزودہ یورینیم موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے)کی جانب سے رکن ممالک کو فراہم کردہ خفیہ سہ ماہی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے پاس تقریبا بم گریڈ تک افزودہ یورینیم موجود ہے۔رپورٹ میں مزید کہا کیا گیا ہے کہ ایران میں 83 فیصد سے زائد یورینیم کے افزودہ ذرات ملے ہیں تاہم ان کے ماخذ کا ابھی تک تعین نہیں ہوسکا ہے۔ ایران کے پاس موجود یورینیم افزودگی 2015 کے عالمی طاقتوں سے معاہدے میں طے شدہ ہدف سے 18 فیصد زیادہ ہے۔ایران کا کہنا ہے کہ ممکن ہے یورینیم افزودگی کے دوران ایسا غیر ارادی طور پر ہوگیا۔ اس حوالے سے عالمی ایجنسی سے بات چیت جاری ہے۔امریکی محکمہ دفاع میں تیسری پوزیشن کے حامل کو لن کاہل کا کہنا تھا، ”کیونکہ ہمارے جے سی پی او اے کے چھوڑنے کے بعد سے ایران کی جوہری پیش رفت قابل ذکر رہی ہے۔ سن 2018 میں جب سابقہ انتظامیہ نے جے سی پی او اے سے خود کو الگ کرلینے کا فیصلہ کیا تھا اس وقت ایران کو ایک بم کی تیاری کے لیے ضروری انشقاقی مادہ تیار کرنے میں تقریباً 12ماہ لگتے تھے۔ لیکن اب اس میں تقریباً 12دن لگیں گے۔امریکی حکام بارہا یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ اگر ایران نے جوہری بم بنانے کا فیصلہ کرلیا تو اس میں کتنا وقت لگے گا۔ ان کا خیال تھا کہ اس میں ہفتوں لگ سکتے ہیں۔ لیکن کاہل نے پہلی مرتبہ اس میں لگنے والے وقت کا واضح طور پر ذکر کیا ہے۔امریکی حکام کا خیال ہے کہ ایران انشقاقی مادہ تیار کرنے کے قریب تر ہوگیا ہے لیکن انہیں یقین نہیں کہ اس نے جوہری بم بنانے کی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرلی ہے۔خیال رہے کہ اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سن 2018 میں ایران جوہری معاہدے سے امریکہ کو یک طرفہ طورپر الگ کرلیا تھا۔ جس کے بعد تہران نے اپنے جوہری پروگرام پر دوبارہ کام شروع کر دیا۔امریکہ، یورپی یونین اور اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ایران جوہری بم تیار کرسکتا ہے۔ تاہم ایران اس طرح کے کسی عزائم سے انکار کرتا ہے۔جوہری سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے والے اقوام متحدہ کے ادارے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی ا ے ای اے) نے منگل کے روز کہا کہ اس کے معائنہ کاروں نے ایران کے فردو جوہری پلانٹ میں یورینیم کے ذرات 83.7 فیصد افزودہ پائے ہیں۔جوہری بم بنانے کے لیے 90 فیصد افزودہ یورینیم کی ضرورت ہوتی ہے۔عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے کہا کہ ان ذرات کے ماخذ کا پتہ لگانے کے سلسلے میں بات چیت ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس موجود یہ یورینیم افزودگی 2015 کے معاہدے میں طے شدہ ہدف سے 18 فیصد زیادہ ہے۔