ایرانی فورسز کے ہاتھوں ایک دن میں 8 مظاہرین کا قتل :ایمنسٹی

   

تہران : چھ ہفتوں سے ایران میں خونی مظاہرے جاری ہیں، عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا کہ چہارشنبہ کی شام سے اب تک ایرانی فورسز نے 8 مظاہرین کو قتل کرڈالا ہے۔ چہارشنبہ کو مہسا امینی کی موت کو 40 روز مکمل ہوئے تھے اور ایران بھر میں احتجاج میں شدت آگئی تھی۔ ایرانی سکیورٹی نے ان مظاہروں کو کچلنے کیلئے ایک مرتبہ پھر مظاہرین کو براہ راست گولیوں کا نشانہ بنا ڈالا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایرانی فورسز کی کی کارروائیوں کی مذمت کی اور آتشیح اسلحہ کے غیر قانونی استعمال کو قابل مذمت قرار دیا۔
حجاب نہ کرنے پر پولیس نے مہسا امینی کو گرفتار کیا اور تین روز بعد 16 ستمبر کو حراست میں ہی مہسا کی پراسرار موت ہوگئی۔ مہسا کی موت کے 40 روز مکمل ہونے کے خونی دن مکمل ہونے بعد جمعرات کو دوبارہ مظاہروں میں غم و غصہ زیادہ نظر آیا۔شمال مغربی آذربائیجان صوبے کے شہر مہاباد میں چہارشنبہ کو ہلاک ہونے والے ایک مظاہرین کی آخری رسومات کے دوران سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے جبکہ مشتعل افراد نے شہر کے ایک پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کر لیا۔کچھ مظاہرین نے نوجوان اسماعیل مولودی کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے نعرے لگائے کہ ’’ہمیں اپنے نوجوانوں کو رونا نہیں چاہیے بلکہ ان کا بدلہ لینا چاہیے‘‘۔