ایغوروں کی ’نسل کشی‘ پر اقوام متحدہ میں بحث کی تحریک مسترد

   

بیجنگ : چین نے ایغور مسلمانوں اور دیگر نسلی اقلیتوں پر مبینہ مظالم پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بحث کی تحریک مسترد ہو جانے کو اپنی ’فتح‘ قرار دیا ہے جبکہ انسانی حقوق کے گروپوں نے اس ’شرمناک‘ رویے کی مذمت کی ہے۔چین کے شمال مغربی علاقیسنکیانگ میں ایغور مسلمانوں اور دیگر نسلی اقلیتوں کے خلاف چین کے مظالم کے خلاف اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل میں بحث کی ایک تحریک جمعرات 6 اکتوبر کو مسترد کردی گئی حالانکہ کونسل کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں اقلیتوں کے خلاف جس بڑے پیمانے پر مظالم ہو رہے ہیں جو ”انسانیت کے خلاف جرائم‘‘ کے مترادف ہیں۔جنیوا میں واقع اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 47 اراکین میں سے 17 نے بحث کرانے کے حق میں جب کہ 19 نے اس کے خلاف ووٹ دیا، 11 ممالک نے اس میں حصہ نہیں لیا۔ جس کی وجہ سے مغربی ممالک کی طرف سے پیش کردہ تحریک مسترد ہوگئی۔