ایل آر ایس اسکیم، 3 لاکھ درخواستیں مسترد ہونے کاامکان

   

وقف ، انڈومنٹ اور سرکاری اراضیات کیلئے درخواستیں
حیدرآباد میں سب سے زیادہ ایک لاکھ درخواستوں کا ادخال
حیدرآباد۔/28فروری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی کی لے آؤٹ ریگولرائزیشن اسکیم (LRS) پر عمل آوری کی ہدایت کے بعد محکمہ بلدی نظم و نسق نے درخواستوں کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔ اسکیم کے تحت داخل کی گئی 3 لاکھ درخواستوں کو مسترد کئے جانے کا اندیشہ ہے کیونکہ یہ درخواستیں ذخائر آب کے اطراف کی اراضی، سرکاری اراضی، پارکس، وقف اراضی اور انڈومنٹ کی اراضیات سے متعلق ہیں۔ کھلی اراضی اور اوپن پلاٹس کے نام پر ایل آر ایس کی درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔ اسکیم کے تحت جملہ 25 لاکھ درخواستیں زیر التواء ہیں، جن درخواستوں کو مسترد کیا جاسکتا ہے وہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور اس کے اطراف کے علاقوں کی ہیں۔ چیف منسٹر کی ہدایت کے بعد عہدیداروں نے گائیڈ لائنس کی تیاری شروع کردی ہے۔ گرام پنچایتوں اور اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹیز کے تحت متعلقہ ایڈیشنل کلکٹر لوکل باڈیز کو اختیارات دیئے جائیں گے۔ میونسپلٹیز میں میونسپل کمشنرس اور جی ایچ ایم سی کمشنر درخواستوں کی یکسوئی کے مجاز ہوں گے۔ واضح رہے کہ ایل آر ایس سے متعلق سپریم کورٹ میں زیر دوران مقدمہ کے بارے میں کوئی عبوری احکامات جاری نہیں کئے گئے اور نہ ہی کوئی حکم التواء ہے لہذا حکومت کو زیر التواء درخواستوں کی یکسوئی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ حکومت کی اسکیم کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔ 1
واضح رہے کہ سابق بی آر ایس حکومت نے اگسٹ 2020 میں ایل آر ایس اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے درخواست گذاروں کیلئے فی درخواست ایک ہزار روپئے کی فیس مقرر کی تھی جس کے تحت گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 1.60 لاکھ درخواستیں داخل کی گئی۔ ورنگل میونسپل کارپوریشن کے تحت 1.01 لاکھ اور کھمم کارپوریشن کے تحت 50 ہزار درخواستیں داخل کی گئیں۔1