ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر شام میں احتجاج

   

دمشق۔ 14 ستمبر (ایجنسیز) شام کے مختلف علاقوں میں حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے سڑکیں بند کرکے قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ملک میں مسلسل بڑھتی مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کے دباؤ نے عوامی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ حلب کے دیہی علاقوں میں آن لائن منظرعام پر آنے والی ویڈیوز میں مظاہرین کو اعزاز اور الباب میں سڑکوں پر احتجاج کرتے اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف نعرے لگاتے دکھایا گیا۔ مظاہرین نے حکومت کے فیصلے کی مخالفت میں سڑکیں بھی بندکردیں۔آن لائن گردش کرنے والی ویڈیوز اور تصاویر کے مطابق جنوبی ادلب کے دیہی علاقہ میں معرہ النعمان کے قریب بین الاقوامی ایم 5 شاہراہ کو بھی مظاہرین نے بند کردیا۔ تصاویر میں سڑک پر جلتے ہوئے ٹائر دکھائی دیے۔ یہ احتجاج وزیر توانائی محمد البشیر کے اس بیان کے ایک روز بعد ہوئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ضروری تھا تاکہ پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کی لاگت اور ملک میں ان کی فروختی قیمتوں کے درمیان پیدا ہونے والے عارضی فرق کوکم کیا جاسکے۔ سرکاری خبررساں ایجنسی ساناکے مطابق وزیر توانائی نے بتایا کہ شام میں یومیہ تقریباً ایک لاکھ 2 ہزار بیرل تیل پیدا ہوتا ہے، جبکہ ملکی طلب تقریباً 3 لاکھ 25 ہزار بیرل یومیہ ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے حکومت کو ایندھن درآمدکرنا پڑتا ہے۔ وزارت توانائی نے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق ایندھن کی قیمتوں کا جائزہ جاری رکھا جائے گا۔ وزارت نے طویل مدت میں ملک کی ریفائننگ اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں توسیع کیلئے بھی اقدامات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔امید ظاہر کی ہے کہ حالات چند دنوں میں قابو میں آجائیں گے ۔