سرینگر : دنیا کے کئی ممالک اور ہندوستان کے کئی دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں بچوں کو اسکولوں تک پہنچنے کیلئے ذرائع دستیاب نہیں ہوتے ۔ گذشتہ دنوں جموں و کشمیر کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا کہ پہاڑی علاقہ کے طلباء و طالبات روزانہ 10کلومیٹر کا پیدل سفر طئے کر کے اسکول پہنچتے ہیں اور اتنا ہی فاصلہ طئے کر کے شام کو اسکول سے گھر آتے ہیں ۔ آج بھی ملک کی کئی ریاستوں کے دیہات وں اور دور دراز مقامات کے طلبہ اور عوام کو سرکاری ٹرانسپورٹ نظام کی سہولت دستیاب نہیں ہے ۔ اگر یہ سہولت دستیاب بھی ہو تو اکثر شکایت ہوتی ہے کہ بسیں اور ٹرینیں تاخیر سے چلتی ہیں جس کی وجہ سے طلبہ کو صبح کے وقت اسکول پہنچنے میں اور شام کوا پنے گھروں کو واپس پہنچنے میں تاخیر عام بات ہوتی ہے ۔ سوشل میڈیا بالخصوص ٹوئٹر پر ایک ایسا ویڈیو وائرل ہوا ہے جسے دیکھ کر عام لوگوں کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک طالبہ رسی پکڑ کر نیچے ندی میں تیز رفتاری کے ساتھ بہتے ہوئے پانی سے بے خوف ہوکر ندی کے دوسرے کنارے پر پہنچتی ہے ۔ دیکھنے والوں کیلئے یہ منظر خوفناک ہے لیکن اس نڈر اور بہادر طالبہ کے چہرے پر خوف یا ڈر نظر نہیں آتا ۔