ایک سال کے عرصہ میں 357 ماؤسٹوں کی پولیس کارروائیوں میں ہلاکت

   

تلنگانہ میں 23 ہلاکتیں، سنٹرل کمیٹی کے 4 اور اسٹیٹ کمیٹی کے 16 ارکان مہلوکین میں شامل
حیدرآباد۔ 16 جولائی (سیاست نیوز) ممنوعہ سی پی آئی ماؤسٹ پارٹی نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں ملک کے مختلف علاقوں میں پولیس اور سیکوریٹی فورسیس نے 357 ماؤسٹوں اور ان کے ہمدردوں کو ہلاک کردیا ہے۔ ماؤسٹ پارٹی کی جانب سے مہلوکین کی یاد میں 28 جولائی سے ایک ہفتہ طویل پروگرامس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہفتہ شہیداں کے نام سے ماؤسٹوں کی جانب سے ہلاک ہونے والے کامریڈس کو خراج پیش کیا جائے گا۔ تلنگانہ پولیس نے ماؤسٹوں کی جانب سے جاری کردہ بیان کی توثیق کی ہے۔ ممنوعہ ماؤسٹ تنظیم کی سنٹرل کمیٹی کی جانب سے مکتوب جاری کیا جس میں تحریک کے دوران پارٹی کو گزشتہ ایک سال میں ہوئے نقصانا ت کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کے ہاتھوں 4 سینئر قائدین کی موت واقع ہوئی جن میں سنٹرل کمیٹی کے قائدین، پارٹی جنرل سکریٹری شامل ہیں۔ اسٹیٹ کمیٹی کے 16 ارکان اور ضلع کمیٹیوں کے 23 ارکان کی ہلاکت ہوئی ہے۔ بیان میں مسلح ماؤسٹوں کے علاوہ سیویلین ہمدردوں کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ بیان کے مطابق گزشتہ ایک سال میں جملہ 357 کامریڈس نے اپنی جان دی جن میں 136 خاتون کامریڈس اور 31 انقلابی جہدکار شامل ہیں۔ ماؤسٹوں نے دعوی کیا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں گنداکارنیا ریجن میں ہوئی ہیں اور زیادہ تر انکاؤنٹرس فرضی تھے۔ چھتیس گڑھ کے سرحدی علاقوں میں سیکوریٹی فورسیس کی کارروائیوں میں سب سے زیادہ 281 ماؤسٹ ہلاک ہوئے جبکہ تلنگانہ میں 23، اڈیشہ 20 اور بہار اور جھارکھنڈ میں 14 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ مکتوب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آندھرا پردیش اور اڈیشہ سرحد کے علاوہ مہاراشٹرا، مدھیہ پردیش سرحد پر انکاؤنٹرس کے کم واقعات پیش آئے۔ ماؤسٹوں نے فرضی انکاؤنٹرس کے ذریعہ کیڈر کو نشانہ بنانے کی شکایت کی ہے۔ سی پی آئی ماؤسٹ کے مطابق یہ 4 ماؤسٹوں کی موت بیماری کی وجہ سے ہوئی ہے۔ فرضی انکاؤنٹرس میں 80 جبکہ اچانک یکطرفہ حملہ میں 269 ماؤسٹوں کی ہلاکت ہوئی۔ ماؤسٹ تحریک کے آغاز کے بعد سے ایک سال میں 4 سنٹرل کمیٹی اور 16 اسٹیٹ کمیٹی ارکان کی ہلاکت پہلی مرتبہ ہوئی ہے۔ ماؤسٹوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہر حملہ میں 10 تا 20 پولیس ملازمین کی ہلاکت ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2026 تک ملک سے ماؤسٹوں کے صفایہ کا اعلان کیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ماؤسٹوں سے امن مذاکرات کی تجویز کو مسترد کردیا۔ اپوزیشن پارٹیوں اور جہدکاروں کی جانب سے امن مذاکرات کی اپیل کی جارہی ہے۔ 1