اے بی وی پی نے پروفیسر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا اور پاک کرنے کی رسم ادا کی

,

   

انہوں نے کہا، “میں جانتی ہوں کہ اس حملے کے پیچھے کون ہے۔ لیکن میں کوئی شکایت درج نہیں کرواؤں گی۔ وہ میرے اپنے بچوں کی طرح ہیں۔”

کولکاتا: کولکاتا کے سریندر ناتھ کالج میں ایک مسلم خاتون پروفیسر کو حاضری کے معاملے پر 11 ستمبر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا۔ اس کے بعد اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے ارکان نے ’تطہیر‘ (پاک کرنے) کی ایک رسم ادا کی۔

ستمبر 11کو، اے بی وی پی کے ارکان کے ایک گروپ نے محمدی ترنم کے دفتر کا تقریباً ایک دن تک گھیراؤ کیا، ان کے استعفے کا مسودہ تیار کیا اور انہیں اس پر دستخط کرنے پر مجبور کیا۔

پولیس کی جانب سے انہیں بحفاظت باہر نکالے جانے کے بعد، طلباء نے اگر بتیاں جلائیں اور گنگا جل چھڑکا، جسے انہوں نے احاطے کو پاک کرنے کا عمل قرار دیا۔

معاملہ کیا تھا؟
محمدی ترنم سریندر ناتھ کالج میں وائس پرنسپل اور ٹیچر انچارج تھیں۔ سمسٹر کے امتحانات میں بیٹھنے کے لیے طلباء کی حاضری 65 فیصد ہونا لازمی ہے۔ طلباء کے ایک حصے نے اس شرط کو پورا نہیں کیا تھا۔ انہوں نے واضح کر دیا تھا کہ 28 ستمبر کو ہونے والے آئندہ امتحانات کے لیے حاضری کا اصول لاگو کیا جائے گا۔

’دی وائر‘ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ صرف ایک سرکاری کالج کی پروفیسر کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہی تھیں۔

انہوں نے کہا، “میں نے طلباء کی جانب سے ذات پات، مذہب اور سیاست سے متعلق اتنی گالیاں اور فحش باتیں سنیں کہ میں دو دن تک بیمار پڑ گئی۔ انہوں نے مجھے گالیاں دیں، میرا مذاق اڑایا اور ہر قسم کے توہین آمیز جملے کہے۔ شدید ذہنی اذیت کا شکار ہونے کے باوجود، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک وہ مجھے مار نہیں ڈالتے، میں استعفیٰ نہیں دوں گی۔”

مسلم پروفیسر کے ’استعفے کے خط‘ پر کالج کا موقف غیر واضح
سریندر ناتھ کالج کی بنیاد 1884 میں رکھی گئی تھی اور اس کا نام انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما سریندر ناتھ بنرجی کے نام پر رکھا گیا تھا۔ بیرک پور حلقے سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی (ایم ایل اے) کوستو باغچی فی الحال اس کی گورننگ باڈی کے سربراہ ہیں۔

ان کے مطابق، پروفیسر کے خلاف متعدد شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا، “میں نے ان معاملات کو محکمہ اعلیٰ تعلیم کے سپرد کر دیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اب یہاں سازگار ماحول بحال ہو جائے گا۔”

ابھی تک محکمہ اعلیٰ تعلیم کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، ترنم نے اپنی گاڑی سے حکومت کو ای میل بھیجی جس میں کہا گیا کہ انہوں نے وہ خط دباؤ میں آ کر دستخط کیا تھا۔ 12 ستمبر کو انہوں نے عوامی سطح پر اس خط سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔

انہوں نے پولیس میں کوئی شکایت درج نہیں کرائی۔ انہوں نے کہا، “میں جانتی ہوں کہ اس حملے کے پیچھے کون ہے۔ لیکن میں شکایت درج نہیں کراؤں گی۔ وہ میرے اپنے بچوں کی طرح ہیں۔”

محمدی ترنم 2007 سے، یعنی تقریباً 20 سال سے، اس کالج میں تدریس کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔