راہِ پُرخار سے بے خوف گزرنا سیکھو
بحرِ ہستی سے بہر طور اُبھرنا سیکھو
مرکزی حکومت چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کو بہرصورت کچلنے کا تہئیہ کرچکی ہے ۔ مختلف تنظیموں ‘ اداروں اور یونینوں کی جانب سے احتجاج کا اعلان کیا جا رہا ہے اور حکومت کی جانب سے عدالت کی ہدایات کو نظر انداز کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جارہا ہے ۔ بے تحاشہ پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ تحدیدات نافذ کی جا رہی ہیں اور قبل از وقت اطلاع کے باوجود احتجاج کا اعلان کرنے والوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے ۔ طلباء قائدین اور نوجوانوں کو پولیس اسٹیشنوں میں بند کرنے میں کوئی عار محسوس نہیںکی جا رہی ہے اور صرف اور صرف طاقت کا استعمال کرتے ہوئے جمہوری آوازوں کو دبانے اور کچلنے کی حکمت عملی کو اختیار کیا جا رہا ہے ۔ جس طرح سے گذشتہ ایک ہفتے میں حکومت کی جانب سے بارہا طاقت کا استعمال کیا گیا ہے اور پولیس مشنری کے ذریعہ جمہوری احتجاج کو کچلنے کی کوششیں کی گئی ہیں وہ انتہائی افسوسناک ہے ۔ آج بھی سی جے پی کی جانب سے ترنگا لہراؤ یاترا کا اعلان کیا گیا تھا ۔ اس میں کسی طرح کے تشدد کی کوئی گنجائش نہیں تھی ۔ ملک کے طلباء اور نوجوان قومی پرچم ترنگے کے ساتھ اپنا احتجاج درج کروانا چاہتے تھے تاہم اب بی جے پی کی زیر قیادت مودی حکومت کو ترنگا یاترا سے بھی الجھن ہونے لگی ہے اور وہ اسے بھی ناکام بنا رہی ہے ۔ حکومت اس بات کا احساس کرنے کیلئے قطعی تیار نہیں ہے کہ ملک کے شہریوں کو پرامن انداز میں قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے لیکن حکومت ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے ۔ موجودہ حالات اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ حکومت محض طاقت کے استعمال میں یقین کرنے لگی ہے اور وہ عوام کے جمہوری اور دستوری حقوق کو بھی پامال کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کر رہی ہے اور نہ ہی اسے کسی طرح کی پشیمانی کا احساس ہی ہونے لگا ہے ۔ نہ طلباء کو دیکھا جا رہا ہے اور نہ ہی وکلاء کا لحاظ کیا جا رہا ہے ‘ نہ صحافیوں کو بخشا جا رہا ہے اور نہ ہی سیول سوسائیٹی کے نمائندوں کا ہی کوئی خیال رکھا جا رہا ہے ۔ سبھی کو ایک ہی طرح سے ہانکا جا رہا ہے ۔
موجودہ حالات اور حالیہ تجربات سے واضح ہوگیا ہے کہ حکومت کسی بھی قیمت پر احتجاج کو برداشت کرنے تیار نہیں ہے اور وہ جتنی ہوسکے طاقت استعمال کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے ۔ ایسے میں جو کوئی بھی ملک میں جمہوریت کے تحفظ کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں اور احتجاج کا راستہ اختیار کر رہے ہیں اور جو کوئی بھی اپنے دستوری حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کرنا چاہتے ہیں سبھی کو مشترکہ طور پر احتجاج کی جامع منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے ۔ سبھی گوشوں کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے ۔ مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کیا جانا چاہئے ۔ قانون اور دستور کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنے حق کیلئے صدائے احتجاج بلند کی جانی چاہئے ۔ طاقت کے استعمال سے خوفزدہ ہونے یا رک جانے کی بجائے مشترکہ جدوجہد کیلئے منصوبہ بندی پر توجہ دی جانی چاہئے ۔ ہم خیال افراد ‘ تنظیموں ‘ اداروں اور یونینوں کو ساتھ لے کر قانونی گنجائشوں کا جائزہ لیتے ہوئے احتجاج کی حکمت عملی تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت بن گیا ہے ۔ جو احتجاج کیا جا رہا ہے وہ ملک اور ملک کی جمہوریت کے تحفظ کیلئے ‘ اس کے استحکام کیلئے ہے اور اس کو سبھی کے مشوروں اور تجاویز کے ساتھ آگے لیجانے کی ضرورت ہے اور چیدہ چیدہ پروگرامس منعقد کرتے ہوئے حکومت یا پولیس ایجنسیوں کو احتجاج کو دبانے ‘ کچلنے یا ختم کرنے کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے ۔ اس بات کا سبھی کو سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔
آج جس طرح سی جے پی کے ترنگا لہراؤ مارچ کو روکنے کی کوشش کی گئی ‘ ابھیجیت ڈپکے کو حراست میں لیا گیا ‘ نیہا بورا کو گرفتار کیا گیا اور احتجاجیوں کو منتشر کرنے کی جو کوشش کی گئی ہے وہ سارے ملک کے سامنے ہے اور ملک کے عوام کو اس صورتحال کا جائزہ لینا چاہئے ۔ اس بات کو سمجھنا چاہئے کہ جمہوری اور دستوری حقوق کا تحفظ اگر آج نہیں کیا گیا تو مستقبل میں بھی حقوق سے محروم کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا اور نقصان ملک کے غریب اور پسماندہ افراد کا ہی ہوگا اور وہ عملا دوسرے درجہ کے شہری بنادئے جائیں گے ۔