سان فرانسیسکو: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے اوپر فائرنگ کے واقعات کوامریکی صدر جو بائیڈن اور ان کی نائب صدر کملا ہیریس دونوں کی ”تقاریر” کا نتیجہ قرار دییا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس لیڈرز کے بیانات کی وجہ سے مجھ پر دوسری بار قاتلانہ حملہ ہوا-ریپبلکن امیدوارٹرمپ نے ’فاکس نیوز‘ پر بات کرتے ہوئیکہا کہ مجھ پر حملہ کرنے والے اس واقعے کا مشتبہ شخص ”بائیڈن اور ہیرس کی تقریر پر یقین رکھتا تھا اور اس نیاس کے مطابق عمل کیا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”ان کی تقاریر مجھے گولی مارنے کا باعث بنیں”۔ٹرمپ نے موجودہ صدر اور ان کے نائب صدر کے بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ وہ ”جمہوریت کے لیے خطرہ” ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے مخالفین ”انتہائی اشتعال انگیز” زبان استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بھی ان کی طرح بلکہ ان سے زیادہ سخت زبان استعمال کرسکتا ہوں لیکن میں ایسا نہیں کروں گا”۔ایک اور تناظر میں ٹرمپ نے سیکرٹ سروس اور پولیس کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا ”انہوں نے بہت اچھی کارکردگی دکھائی”۔ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ”میں ملک کو بچاؤں گا اور بائیڈن اور ہیرس اسے اندر اور باہر سے تباہ کر رہے ہیں”۔ انہوں نے یہ بات اس وقت کی جب ’سی این این‘ کے نامہ نگار نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ٹرمپ پرمشتبہ حملہ کرنے والا شخص ریان روتھ پیر کو فلوریڈا کے ویسٹ بینک پام بیچ میں ایک وفاقی کمرہ عدالت میں داخل ہوا تھا۔رپورٹر نے بتایا کہ روتھ نے جیل کی سیاہ وردی پہن رکھی تھی اور اس کے ہاتھوں اور پیروں میں ہتھکڑیاں تھیں۔اتوار کو ٹرمپ اسٹیڈیم سے ایک بندوق بردار کو گرفتار کیا گیا۔ سیکرٹ سروس نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس کے ایک یا زیادہ اہلکاروں نے ”ایک بندوق بردار پر فائرنگ کی” جسے ٹرمپ کے گولف کورس کے مضافات میں دیکھا گیا تھا۔اس کے پاس ایک GoPro ویڈیو کیمرہ اور دوربینوں والی AK-47 رائفل بھی ملی تھی‘‘۔ایف بی آئی نے تصدیق کی کہ وہ ”اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ سابق صدر ٹرمپ پریہ قاتلانہ حملہ تھا یا نہیں‘‘۔امریکی میڈیا نے ملزم کی شناخت ریان ویزلی روتھ کے نام سے کی ہے جس کی عمر 58 سال ہے۔