بائیڈن فائرنگ کے مسلسل واقعات سے بیزار

   

واشنگٹن : امریکی صدر جوبائیڈن ملک میں آئے دن فائرنگ کے واقعات اور اس میں ہونے والے جانی نقصان سے تنگ آگئے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق ریاست مسی سپی میں فائرنگ سے 6 افراد کی ہلاکت کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے بیان جاری کیا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ اس سال 48 دنوں میں کم از کم 73 بڑے فائرنگ کے واقعات ہوچکے ہیں۔ جوبائیڈن نے اپنے بیان میں کہا کہ ان واقعات پر مذمت اور دعائیہ پیغامات کافی نہیں، فائرنگ کے واقعات وبا ہیں اور کانگریس کو اب ایکشن لینا چاہیے۔ امریکی صدر نے کہا کہ بندوق کے قانون میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ سال امریکہ میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں 44 ہزار اموات ہوئی تھیں۔

بائیڈن نے صحافی کے سوال ’بریک‘ مانگ لیا
واشنگٹن : امریکی صدر جوبائیڈن نے صحافی کے سوال پوچھنے پر بریک مانگ لیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر مبینہ چینی جاسوس غبارے اور اس کو مار گرانے کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔ امریکی صدر کے بات ختم کرنے کے بعد ان سے سوال کیا گیا کہ ’کیا چین سے نمٹنے کی آپ کی اہلیت وہاں آپ کے خاندان کے کاروباری تعلقات کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے؟ اس سوال پر امریکی صدر نے مسکرا کر کہا کہ ’مجھے وقفہ دیں۔ غیرملکی میڈیا کے پریس روم میں امریکی صدر اپنے خاندان کے چین میں کاروباری تعلقات کے بارے میں سوال پوچھنے پر ناراض ہوگئے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے اس دوران ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے صحافیوں پر تنقید کی کہ ان کا رویہ نرم نہیں اور پھر وہ کمرے سے باہر چلے گئے۔ اس دوران ایک اور صحافی نے امریکی صدر سے ان پر ہونے والی تنقید کا سوال کرنا چاہا جس پر جوبائیڈن نے کہا کہ آپ میرے آفس آکر سوال پوچھ سکتے ہیں جہاں ہمارے پاس زیادہ شائستہ لوگ ہیں۔