بابا رام دیو کو شخصی طور پر عدالت میں پیشی کا حکم

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بابا رام دیو کو پتانجلی آیوروید کے ’گمراہ کن‘ اشتہارات کے معاملے میں توہین عدالت کی کارروائی کے ضمن میں ان کے خلاف جاری وجہ بتاؤ نوٹس کا جواب داخل نہ کرنے پر انہیں ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا۔ جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس احسن الدین امان اللہ کی بنچ نے رام دیو اور آچاریہ بال کرشن کے جواب داخل نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اشتہارکے معاملے میں بادی النظر میں مجرم ٹھہرائے گئے ہیں۔ ان کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل مکل روہتگی نے اس پر سخت اعتراض ظاہر کیا۔ بنچ نے روہتگی سے کہاکہ آپ ہمارے احکامات کو کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں۔ بنچ نے ان سے کہا کہ آپ نوٹس کا جواب نہیں دے رہے ہیں اور پریس کانفرنس کررہے ہیں۔ عدالت نے روہتگی کے تمام دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکم میں ترمیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے 29 فروری کو انڈین میڈیکل اسوسی ایشن کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ کمپنی اور اس کے ایم ڈی آچاریہ بال کرشن کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ پورے ملک کے ساتھ دھوکہ کیا جا رہا ہے ۔