حافظ محمد صابر پاشاہ
پانی قدرتِ خداوندی کی ان عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں۔آسمان سے برسنے والے بارانِ رحمت کے قطرے محض موسم کی تبدیلی کا مظہر نہیں، بلکہ قدرتِ الٰہی کی نشانیاں اور انسان کے لیے شکرگزاری، غور و فکر اور ذمہ داری کا پیغام بھی ہیں۔ جب بارشیں معمول کے مطابق ہوں تو پانی کی فراوانی انسان کو اس نعمت کی حقیقی قدر سے غافل کردیتی ہے، لیکن جیسے ہی بارش میں کمی واقع ہوتی ہے، زندگی کے مختلف شعبوں پر اس کے اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ ایسے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بارانِ رحمت کے لیے بارگاہِ الٰہی میں عاجزی و انکساری کے ساتھ دعا کریں، کثرت سے توبہ و استغفار کریں، اپنے اعمال کا محاسبہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس عظیم نعمت کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات بھی کریں۔ ایک باشعور اور ذمہ دار معاشرہ وہی ہے جو دعا کے ساتھ تدبیر، عبادت کے ساتھ اصلاح اور شکرگزاری کے ساتھ نعمتوں کی حفاظت کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔
قرآنِ مجید نے بارش کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی قدرت کا مظہر قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:ترجمہ: ”اور وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہوجانے کے بعد بارش نازل فرماتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے۔“ (سورۃ الشوریٰ) یہ قرآنی پیغام انسان کو اُمید، توکل اور اللہ تعالیٰ کی رحمت پر کامل بھروسے کی تعلیم دیتا ہے۔ حالات کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، مومن کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ دعا، عبادت، توبہ اور نیک اعمال کے ذریعے اپنے رب کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
استغفار، نزولِ رحمت اور اصلاحِ زندگی کا ذریعہ ہے ۔ قرآنِ مجید میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کے ضمن میں استغفار کی اہمیت اور اس کی برکتوں کو واضح کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:”تو میں نے کہا کہ اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے، وہ تم پر خوب موسلا دھار بارش برسائے گا۔“ (سورۃ نوح)
استغفار محض زبان سے چند کلمات ادا کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے حقیقی تقاضوں میں گناہوں پر ندامت، آئندہ ان سے بچنے کا پختہ عزم، حقوق اللہ کی ادائیگی اور حقوق العباد کی پاسداری بھی شامل ہیں۔ اگر ہم اپنی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو نمازوں کی پابندی، حلال و حرام کی تمیز، معاملات میں دیانت داری، عدل و انصاف، ضرورت مندوں کی مدد اور دوسروں کے حقوق کا احترام اپنا شعار بنانا ہوگا۔ بارش کی کمی کو کسی مخصوص فرد یا جماعت کے گناہوں کی قطعی سزا قرار دے کر دوسروں پر الزام عائد کرنا مناسب نہیں۔ پانی کا ایک ایک قطرہ قیمتی ہے اور اس کا ضیاع نہ صرف موجودہ وسائل پر بوجھ بڑھاتا ہے، بلکہ آنے والی نسلوں کے حق کو بھی متاثر کرتا ہے۔قرآنِ مجید نے اسراف سے اجتناب کی واضح ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:”اور کھاؤ اور پیو اور فضول خرچی نہ کرو، بے شک اللہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔“ (سورۃ الاعراف)
اس قرآنی تعلیم کا تقاضا ہے کہ ہم زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال اور کفایت شعاری اختیار کریں۔ اللہ تعالیٰ ہماری خطاؤں کو معاف فرمائے، ہمیں سچی توبہ و استغفار، نیک اعمال اور اپنی نعمتوں کی قدر و حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔