باغ عامہ سے سیف آباد تک کسانوں کے حق میں کانگریس کی احتجاجی ریالی

   

ہزاروں کارکنوں کی شرکت، دھان کی خریدی کیلئے 23 نومبر تک مہلت، پرگتی بھون کا گھیراؤ کرنے ریونت ریڈی کی دھمکی
حیدرآباد۔18۔نومبر (سیاست نیوز) کسانوں سے دھان کی خریدی کے مسئلہ پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے غیر واضح موقف کے خلاف کانگریس نے آج احتجاجی ریالی منظم کی۔ ہزاروں کی تعداد میں کانگریس کارکن اس ریالی میں شریک تھے جس کی قیادت صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کی۔ پبلک گارڈن سے سیف آباد میں واقع کمشنر محکمہ زراعت کے دفتر پر ریالی کا اختتام عمل میں آیا جہاں کانگریس کارکنوں نے دھرنا منظم کیا۔ پولیس نے ابتداء میں ریالی کی اجازت سے انکار کیا لیکن لمحہ آخر میں اجازت دے دی گئی ۔ احتجاجی پروگرام میں سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا ، ارکان مقننہ سریدھر بابو ، سیتکا ، جیون ریڈی ، سابق صدور پردیش کانگریس پونالہ لکشمیا ، وی ہنمنت راؤ ، رکن پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی ، پولیٹیکل افیرس کمیٹی کے کنوینر محمد علی شبیر ، ورکنگ پریسیڈنٹ مہیش کمار گوڑ ، الیکشن مینجمنٹ کمیٹی کے صدرنشین دامودر راج نرسمہا ، اے آئی سی سی سکریٹری سمپت کمار ، آل انڈیا کسان کانگریس کے نائب صدرنشین ایم کودنڈا ریڈی ، سابق وزیر ڈاکٹر جی چنا ریڈی ، ملو روی ، وی نریندر ریڈی ، ایس راجیا ، بلرام نائک ، انیل کمار یادو ، مہیلا کانگریس کی صدر سنیتا راؤ ، صدر این ایس یو آئی بی وینکٹ کے علاوہ پارٹی کے اقلیتی قائدین شیخ عبداللہ سہیل ، نظام الدین ، سمیر ولی اللہ ، واجد حسین ، عظمی شاکر ، فیروز خاں ، متین شریف ، راشد خاں اور دوسروں نے حصہ لیا۔ احتجاجی مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے ۔ ریالی کے نتیجہ میں نامپلی سے لکڑی کا پل جانے والی ٹریفک متاثر ہوئی۔ پولیس نے رویندرا بھارتی سے سیف آباد کی سمت جانے والی سڑک کو بند کردیا تھا۔ ریالی میں قائدین ایک ٹریکٹر پر سوار تھے جبکہ ایک گاڑی میں کسانوں کو علامتی طور پر خودکشی کرتے ہوئے پیش کیا گیا ۔ دھرنے کے بعد ایڈیشنل ڈائرکٹر اگریکلچر وجئے کمار کو یادداشت پیش کی گئی جس میں کسانوں کو نقصانات سے بچانے کیلئے دھان کی خریدی کا مطالبہ کیا گیا۔ احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ بی جے پی اور ٹی آر ایس کسانوں کے مسئلہ پر سیاست کر رہے ہیں۔ دونوں کو کسانوں کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے کسانوں کو انصاف دلانے کیلئے جدوجہد کا آغاز کیا ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مرکزی و ریاستی حکومتیں دھان کی خریدی سے اتفاق نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اندرا پارک پر ٹی آر ایس کی جانب سے مہا دھرنا مضحکہ خیز ہے۔ بی جے پی اور مرکزی حکومت سے ٹکراؤ کے بیانات دینے والے کے سی آر میں ہمت ہو تو وہ نئی دہلی میں احتجاج منظم کریں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے زرعی پیداوار کیلئے اقل ترین امدادی قیمت کا آغاز کیا ہے ۔ زرعی شعبہ کے لئے جو کچھ بھی اسکیمات شروع کی گئیں ، وہ کانگریس دور حکومت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں سے پریشان حال کسان خودکشی پر مجبور ہوچکے ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کے سی آر ہمیشہ پرگتی بھون اور فارم ہاؤز میں آرام کے عادی ہوچکے ہیں۔ ان سے کسانوں کے حق میں دھرنا ممکن نہیں ہے۔ صرف نمائشی طور پر اندرا پارک پر دھرنا کیا گیا ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ اسمبلی دراصل راؤڈی فلم کی طرح ہے جس میں ارکان اسمبلی کو اظہار خیال کی اجازت نہیں ہے۔ 29 نومبر سے پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہورہا ہے اور کانگریس پارٹی کسانوں کے حق میں آواز اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اور جنتر منتر پر ٹی آر ایس کو احتجاج کرتے ہوئے اپنی سنجیدگی کا ثبوت دینا چاہئے ۔ دھان کی خریدی کیلئے 23 نومبر تک حکومت کو مہلت دی جارہی ہے جس کے بعد کسانوں کے ساتھ پرگتی بھون کا گھیراؤ کیا جائے گا ۔ احتجاجی دھرنے سے وی ہنمنت راؤ ، پونالہ لکشمیا ، محمد علی شبیر ، مہیش کمار گوڑ ، بلرام نائک اور دیگر قائدین نے خطاب کیا۔ ر