نیویارک : امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اطلاع ملی ہے کہ فرانس کی قیادت میں مغربی اتحادیوں نے کارروائی کر کے ہتھیاروں اور گولہ بارود سے بھری ایک کشتی کو قبضے میں لے لیا ہے۔ یہ اسلحہ مبینہ طور پر ایران سے یمن بھیجا جا رہا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام ) نے چہارشنبہ کو بتایا کہ خلیج عمان میں 15 جنوری کو کیے جانے والے آپریشن میں 3000 سے زیادہ اسالٹ رائفلیں، 578,000 گولہ بارود اور 23 اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل قبضے میں لیے گئے۔ سینٹ کام نے، جو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرتا ہے، کہا کہ امریکہ نے اس آپریشن کو سراہا ، لیکن یہ تفصیل نہیں بتائی کہ اس کی قیادت کس اتحادی نے کی تھی۔ وال اسٹریٹ جرنل نے اس آپریشن سے واقف اہل کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فرانس کی اسپیشل فورسز کی کارروائی تھی۔ سینٹ کام نے ایک بیان میں کہا کہ یہ کارروائی ،ان راستوں پرکی گئی جو تاریخی طور پر ایران سے یمن تک غیر قانونی طور پر ہتھیاروں کی آمدورفت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم ایران نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی دعوؤں کا محرک سیاسی ہے اور ان کا مقصد دنیا کے لوگوں کو گمراہ کرنا ہے۔ تہران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کعنانی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ جن ممالک نے یمن پر چڑھائی کرنے والی ریاستوں کو ہتھیار فروخت کیے ہیں وہ دوسروں پر الزام لگانے کے قابل نہیں ہیں۔