بالکنڈہ میں پولیس پر حراستی تشدد، مذہبی ہراسانی کا الزام

   

ریاستی انسانی حقوق کمیشن سے عبدالعرفان کی شکایت، قانونی کاروائی کا مطالبہ
نظام آباد۔ 13 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع نظام آباد کے بالکنڈہ پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر شیلندر کے خلاف حراستی تشدد، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال اور مذہبی امتیاز کے الزامات عائد کرتے ہوئے ریاستی انسانی حقوق کمیشن تلنگانہ سے شکایت درج کرائی گئی ہے۔ عبد العرفان خان نے متاثرین عثمان علی اور محمد سمیع علی کی جانب سے کمیشن کی چیئرپرسن کو روانہ کردہ تحریری شکایت میں الزام لگایا کہ 2 ؍مارچ کو عالمگیر مسجد کے قریب ایک معمولی تکرار کے بعد انہیں پولیس اسٹیشن لے جایا گیا جہاں سب انسپکٹر شیلندر نے قانونی طریقہ کار اختیار کیے بغیر فائبر ڈنڈوں اور تھپڑوں سے شدید مارپیٹ کی۔ شکایت کے مطابق اس واقعہ کے بعد گورنمنٹ جنرل ہاسپٹل نظام آباد میں کروائے گئے طبی معائنہ میں جسم پر متعدد زخم اور دباؤ کے نشانات پائے گئے جن کی میڈیکل رپورٹ بھی پیش کی شکایت میں مزید کہا گیا کہ دورانِ حراست مبینہ طور پر سب انسپکٹر نے متاثرین کو دھمکی دی کہ اگر تشدد کی بات ظاہر کی گئی تو انہیں نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکوٹروپک سبسٹینس ایکٹ 1985 کے تحت جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جائے گا۔ ساتھ ہی مذہبی شناخت کو نشانہ بناتے ہوئے مبینہ طور پر اسلام مخالف اور توہین آمیز ریمارکس بھی کیے گئے جنہیں مذہبی ہراسانی قرار دیا گیا ہے۔ متاثرین کے مطابق اس سلسلہ میں 3؍ مارچ کو سرکل انسپکٹر، اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس آرمور اور کمشنر آف پولیس نظام آباد کو باضابطہ شکایت پیش کی گئی تھی لیکن تاحال متعلقہ افسر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔متاثرین نے اپنی شکایت میں کہا کہ یہ واقعہ دستور ہند کے تحت شہریوں کو حاصل بنیادی حقوق خصوصاً آرٹیکل 14، 15، 19، 21 اور 25 کی صریح خلاف ورزی ہے اور پولیس کا کام شہریوں کو ناانصافی اور ظلم سے تحفظ فراہم کرنا ہے نہ کہ خود ایسے اقدامات کرنا۔ شکایت گزاروں نے انسانی حقوق کمیشن سے مطالبہ کیا کہ اس معاملہ میں آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں، متعلقہ افسر کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جائے اور متاثرین کو جسمانی و ذہنی اذیت کے پیش نظر مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔ شکایت کے ساتھ طبی ریکارڈ، تصاویر اور دیگر دستاویزات بھی بطور ثبوت پیش کیا اور فوری مداخلت کی اپیل کی تاکہ متاثرین کو انصاف فراہم ہوسکے۔