بستیوں کا کوئی پرسان حال نہیں، معمر افراد نے سابق رکن پارلیمنٹ سنیل دت کو یاد کیا
ممبئی، 25 مئی(یواین آئی) ممبئی کے باندرہ مشرق میں واقع غریب نگر، بہرام نگر، نرمل نگر، گھاس بازار اور نوپاڑہ جیسی قدیم مسلم اکثریتی بستیوں پر جاری مغربی ریلوے کی انسدادِ تجاوزات مہم نے ہزاروں غریب خاندانوں کو بے گھر کردیا ہے ۔ پانچ روز تک جاری رہنے والی کارروائی میں تقریباً پانچ سو ڈھانچے منہدم کردیئے گئے ، جب کہ ملبہ ہٹانے اور زمین صاف کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے ۔ ریلوے حکام کے مطابق یہاں مستقبل میں پانچویں اور چھٹی ریلوے لائن، باندرہ اسٹیشن کی توسیع اور ممبئی-احمد آباد بلٹ ٹرین منصوبے سے متعلق تعمیراتی کام انجام دیئے جائیں گے ۔ انہدامی کارروائی کے بعد پورا علاقہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ عیدالاضحی اور مانسون سے عین قبل ہزاروں خاندانوں کے بے گھر ہوجانے پر مقامی افراد میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے ۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں کے ساتھ ان کی پوری زندگی اجڑ گئی۔ کئی خاندانوں کے پاس اب نہ رہنے کی جگہ ہے اور نہ ہی متبادل انتظام۔ خواتین بچوں کے ساتھ سڑک کنارے بیٹھی نظر آئیں جب کہ بزرگ افراد ملبے میں اپنی ضروری اشیاء، دوائیں اور دستاویزات تلاش کرتے دکھائی دیئے ۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ غریب نگر اور بہرام نگر جیسی بستیاں ایک طویل عرصے سے فرقہ وارانہ سیاست اور انتظامی جانبداری کا شکار رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم اکثریتی علاقوں کو مسلسل ’’غیر قانونی تجاوزات‘‘ اور ’’سیکورٹی خطرہ‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے ۔ گزشتہ چند ماہ سے بعض سیاسی عناصر کی جانب سے ان بستیوں کے خلاف ماحول بنایا جارہا تھا۔ اس موقع پر کئی بزرگوں نے سابق رکن پارلیمان سنیل دت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بعد ان بستیوں کا کوئی حقیقی پرسان حال نہیں رہا۔ مقامی افراد کے مطابق سنیل دت نے نہ صرف غریب نگر اور بہرام نگر بلکہ باندرہ مغرب کی نرگس دت نگر جیسی بستیوں کو بھی کئی مرتبہ انہدام سے بچایا تھا۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سنیل دت غریبوں کے مسائل کو محض سیاسی معاملہ نہیں بلکہ انسانی مسئلہ سمجھتے ہوئے خود بستیوں میں پہنچتے، حکام سے بات کرتے اور غریب خاندانوں کے تحفظ کیلئے آواز بلند کرتے تھے۔ ان کے دیہانت کے بعد آنے والے اراکین پارلیمنٹ، بشمول ان کی صاحبزادی پریہ دت، ان بستیوں کے مسائل پر وہ توجہ نہیں دے سکے۔
غریب نگر کی تاریخ تقریباً چار دہائیوں پر محیط ہے ۔ 1980 کی دہائی میں قائم ہونے والی یہ بستی وقت کے ساتھ ایک گنجان آباد محنت کش آبادی میں تبدیل ہوگئی تھی۔ یہاں رہنے والے بیشتر افراد یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، ٹیکسی ڈرائیور، گھریلو ملازمین اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ تھے ۔
2017 میں سلنڈر دھماکے اور آگ لگنے کے ایک واقعہ کے بعد ریلوے حکام نے علاقے کو “سلامتی کے لئے خطرہ” قرار دیتے ہوئے بے دخلی کی کارروائی تیز کردی تھی۔ بعد ازاں معاملہ عدالتوں تک پہنچا۔ بمبئی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی جانب سے حالیہ مہینوں میں انہدامی کارروائی کی راہ ہموار ہونے کے بعد ریلوے نے بڑے پیمانے پر مہم شروع کردی۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ممبئی کے مضافاتی ریل نیٹ ورک کو بہتر بنانے ، بھیڑ کم کرنے اور مستقبل کے انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے ضروری ہے ۔ تاہم مقامی افراد سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ترقی کا مطلب صرف غریبوں کو بے گھر کرنا ہے ؟
غریب نگر کے اجڑے ہوئے مکین آج بھی یہی سوال کررہے ہیں کہ اگر ان کے گھروں کو غیر قانونی سمجھا جاتا تھا تو دہائیوں تک انہیں پانی، بجلی، ووٹر شناختی کارڈ اور دیگر سہولیات کیوں فراہم کی جاتی رہیں؟
فی الحال غریب نگر کے بے گھر خاندان کھلے آسمان تلے اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں، جب کہ شہر ایک بار پھر ترقی اور انسانیت کے درمیان توازن کے سوال سے دوچار نظر آتا ہے ۔