ہائیکورٹ میں حکومت کا اتفاق ، درخواست سے دستبرداری ،گورنر سے بجٹ کی منظوری کی راہ ہموار
حیدرآباد۔30۔ جنوری (سیاست نیوز) اسمبلی میں ریاستی بجٹ کی پیشکشی کے مسئلہ پر جاری تعطل آج خوشگوار طور پر ختم ہوگیا۔ راج بھون اور پرگتی بھون کے درمیان بڑھتی دوریوں کا ہائیکورٹ میں خاتمہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے گورنر کے خطبہ سے اسمبلی اور کونسل کے بجٹ اجلاس کے آغاز سے اتفاق کرلیا ہے ۔ گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن کی جانب سے ریاستی بجٹ کی عدم منظوری کے خلاف ہائیکورٹ میں لنچ موشن درخواست داخل کی گئی تھی۔ چیف جسٹس اجل بھویاں کی زیر قیادت بنچ پر سماعت کے دوران ریاستی حکومت اور راج بھون کے وکلاء نے متفقہ طور پر فیصلہ کرتے ہوئے ہائی کورٹ کو اطلاع دی کہ گورنر کے خطبہ سے اسمبلی بجٹ اجلاس کا آغاز ہوگا۔ ریاستی حکومت نے دائر کردہ درخواست کو واپس لے لیا ۔ واضح رہے کہ 3 فروری سے شروع ہونے والے بجٹ سیشن میں گورنر کا خطبہ شامل نہیں تھا۔ طئے شدہ شیڈول کے مطابق وزیر فینانس ہریش راؤ اجلاس کے پہلے دن ریاستی بجٹ پیش کرنے والے تھے ۔ دستوری طریقہ کار کے مطابق ریاستی بجٹ کو منظوری کے لئے گورنر کے پاس روانہ کیا جاتا ہے ۔ گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے بجٹ کو منظوری نہیں دی اور اسمبلی میں گورنر کے خطبہ کی تیاریوں کے بارے میں حکومت سے سوال کیا۔ ریاستی حکومت نے بجٹ کی منظوری کے لئے راج بھون کو ہدایت دینے کے لئے لنچ موشن پر درخواست دائر کی ۔ راج بھون اور ریاستی حکومت کے وکلاء نے اتفاق رائے سے عدالت کو اطلاع دی کہ دستوری قواعد کے مطابق اسمبلی کا بجٹ سیشن شروع ہوگا اور گورنر کا خطبہ شامل رہے گا۔ اس طرح راج بھون اور پرگتی بھون کے درمیان تنازعہ کی خوشگوار انداز میں یکسوئی ہوگئی ۔ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے وکیل دشنت داوے نے عدالت کو بتایا کہ بجٹ کی منظوری کے لئے 21 جنوری کو راج بھون کو مکتوب روانہ کیا گیا لیکن گورنر کی جانب سے بجٹ منظور نہیں کیا گیا اور گورنر کے آفس نے حکومت کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے بجٹ اجلاس کے آغاز پر گورنر کے خطبہ کے بارے میں وضاحت طلب کی ۔ چیف جسٹس اجل بھویاں اور جسٹس تکارام جی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے لنچ موشن درخواست کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس نے ریمارک کیا کہ اس معاملہ میں ہائی کورٹ کس طرح مداخلت کرسکتی ہے ۔ر ( سلسلہ صفحہ 2پر )