برطانیہ: پناہ کے متلاشی 200 بچےعارضی پناہ سے لاپتہ ہو گئے

   

لندن : برطانیہ میں پناہ کے متلاشی 200بچے، جن کی عمریں 16 سال سے کم تھیں اور جنہیں عارضی طور پر ہوٹل میں رکھا جا رہا تھا، لاپتہ ہو گئے ہیں۔ حکومت نے منگل کو کہا کہ اس صورتحال سے تارکین وطن کی آمد سے متعلق طریق کار کے بارے میں نئے سوالات اٹھے ہیں۔ ایک جانب کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ برطانیہ چھوٹی کشتیوں میں آنے والے تارکین وطن سے سرحدوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہا ہے جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہیکہ حکومت آنے والوں کیساتھ مناسب سلوک نہیں کر رہی ہے۔امیگریشن کے وزیر رابرٹ جینرک کو گرین پارٹی کے ایک رکن نے لاپتہ بچوں کی میڈیا رپورٹس کی وضاحت کیلئے منگل کوپارلیمنٹ میں طلب کیا۔جینرک نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ہوٹلوں کے اندر اور باہر 18سال سے کم عمر افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے اور منظم سرگرمیوں میں شرکت کرتے وقت وہ سماجی کارکنوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن جن کی حکومت نے برطانیہ داخل ہونے والے غیرقانونی تارکین وطن کو روانڈا میں رکھنے کیلئے افریقی حکومت سے معاہدہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ان ہوٹلوں میں عارضی طور پر مقیم پناہ کے متلاشی بچوں کو حراست میں لینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔سمندر کے راستے انگلینڈ پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد پچھلے دو سالوں میں دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سمندر کے راستے سے آنے والے والوں میں سب سے زیادہ تعداد البانوی افراد کی ہے۔