برقی بل کی ادائیگی کے نام پر عوام کو لوٹنے کا نیا طریقہ

,

   

سیاست کی تحقیقات میں انکشاف ، قارئین سیاست کسی بھی اجنبی فون کال سے چوکس رہیں
حیدرآباد ۔ 17 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : شہریان حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر کی عوام کو دھوکہ دینے کے لیے ایک نیا طریقہ اختیار کیا جانے لگا ہے ۔ معیشت کو کمزور کرنے کے علاوہ اب معاشی طور پر لوٹنے کے حربے اختیار کئے جانے لگے ہیں ۔ سائبر دھوکہ بازوں کے بڑھتے حوصلے پولیس کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھانے لگے ہیں ۔ ہر دن ایک نئے طریقہ کار سے تعلیم یافتہ کارپوریٹ اور تجارت پیشہ افراد کو نشانہ بنانے والے سائبر دھوکہ باز اب عام شہریوں کو بھی لوٹنے کے طریقے رائج کرچکے ہیں ۔ ان دنوں پرانے شہر میں برقی بلز کی آن لائن ادائیگی کے نام پر عوام کو ٹھگا جانے لگا ہے ۔ اخبار سیاست یہ چاہتا ہے کہ سیاست کا کوئی بھی قاری ان کے جھانسہ میں نہ آئے اور اپنی محنت کی کمائی ان دھوکہ بازوں کے حوالے نہ کرے جو بڑی مشکل اور محنت مشقت سے کمائی جاتی ہے ۔ سیاست کے ذریعہ شہریوں کو باور کرنے کا مقصد شہریوں کو بچانا ہے چونکہ ایک کے بعد دیگر ایسے واقعات سماج میں عام بات بنتے جارہے ہیں اور سائبر دھوکہ باز عوامی ضروریات زندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے عوامی کمزوریوں کے سہارے عوام کو لوٹنے کا منصوبہ رکھتے ہیں ۔ ان دنوں برقی بلز کی ادائیگی کے نام پر شہریوں کو دھوکہ دیا جارہا ہے ۔ ایک سائبر دھوکہ باز کا سیاست نے پردہ فاش کیا اور اپنے طور پر اس کی تحقیق کرتے ہوئے اس کا پتہ چلایا جو ایک معزز شہری کو پہلے فون کرتا ہے اور پھر ان سے کہتا ہے کہ اگر آپ برقی بل فوری ادا نہیں کرتے ہیں تو پھر برقی کا کنکشن کاٹ دیا جائے گا ۔ جب اس شہری نے جو معمولی برقی بلز تھے انہیں ادا کردیا ۔ جس کے بعد اس دھوکہ باز نے جو مغربی بنگال سے تعلق رکھتا ہے خود کو برقی کا ملازم بتاکر دوبارہ اس معزز شہری سے استفسار کیا جب شہری نے ادائیگی کا ذکر کیا تو اس نے اپنی جعلسازی شروع کردی اور 20 روپئے کی رقم کو کریڈیٹ کارڈز سے ادا کرنے کو کہا اگر کریڈیٹ کارڈز سے رقم ادا کی جاتی تو یہ سائبر دھوکہ باز لاکھوں روپئے کریڈیٹ کارڈ کے ذریعہ استعمال کرلیتا ۔ جب سیاست کی ٹیم کو اس بات کا علم ہوا تو فوری اس دھوکہ باز کا پتہ لگالیا جو مغربی بنگال سے تعلق رکھتا ہے اور سیاست کی جانب سے اس کی تفصیلات بھی شہریوں کو چوکنا کرنے کے لیے پیش کی جارہی ہیں ۔ کریڈیٹ کارڈ کی تفصیلات کو حاصل کرنے کے بعد منٹوں میں یہ دھوکہ باز لاکھوں روپئے کی اشیاء کی خریداری کرلیتے ہیں اور ان اشیاء کو جن میں زیادہ تر الیکٹرانک و گھریلو استعمال کی اشیاء ہوتی ہیں فروخت کردیتے ہیں ۔ سیاست شہریوں سے یہ درخواست کرتا ہے کہ آپ اپنی محنت کی کمائی ایسے کسی دھوکہ باز کے ہاتھوں نہ گنوائیں جس کے لیے آپ کو چوکنا رہنا ضروری ہے ۔ ایسے کسی اجنبی سے اپنی کوئی نجی و بینکنگ تفصیلات کو شیئر نہ کریں جس کو آپ جانتے نہیں اور نہ ہی کبھی کسی سے ملاقات کی ہو ۔ کسی بھی انجان و اجنبی سے چاہے وہ خود کو بینک کا ملازم و منیجر بتائے یا پھر کسی سرکاری محکمہ کا آفیسر یا پھر کوئی ادارہ جس سے آپ کوئی تعلق رکھتے ہیں یا کبھی کوئی ضرورت پیش آتی ہو چونکہ ڈاٹا محفوظ نہیں رہا ۔ جس کے کئی دلائل اور دعویٰ پیش کئے جاچکے ہیں ۔ لہذا آن لائن خرید و فروخت میں چوکسی ہی نہیں بلکہ دھوکہ دہی سے بچنے کا واحد راستہ ہے اور کوئی بینک بھی کبھی آن لائن تفصیلات کو آن لائن نہیں مانگتا لہذا ایسے واقعات کے پیش نظر خود بھی چوکس رہیں اور سماج میں اپنے دیگر شہریوں کو بھی چوکنا کریں ۔ سائبر دھوکہ دیہی سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے دیگر شہریوں کی حفاظت کو سیاست کی درخواست پر سماجی ذمہ داری تصور کریں ۔۔ ع