بی آر ایس قائدین کو جیل جانے کا خوف، ہزاروں کروڑ کی بے قاعدگیاں، اسمبلی میں گرما گرم مباحث، بی آر ایس کا ایوان کے وسط میں احتجاج
(بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان خفیہ مفاہمت آشکار)
حیدرآباد 29 جولائی (سیاست نیوز) بی آر ایس دور حکومت میں برقی معاہدہ اور پراجکٹ کی تعمیر میں بے قاعدگیوں کے مسئلہ پر تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں آج گرما گرم مباحث ہوئے۔ محکمہ برقی اور دیگر 18 محکمہ جات کے مطالبات زر پر مباحث کے دوران بی آر ایس کے رکن جگدیش ریڈی کے حکومت کے خلاف بعض ریمارکس پر چیف منسٹر ریونت ریڈی برہم ہوگئے اور گزشتہ 10 برسوں کے دوران برقی شعبہ میں ہزاروں کروڑ کی بدعنوانیوں کا الزام عائد کیا۔ مباحث کے موقع پر بی آر ایس کے ارکان نے بارہا اسپیکر پرساد کمار کے پوڈیم کے قریب پہونچ کر احتجاج درج کرایا۔ جگدیش ریڈی کو اظہار خیال کا موقع دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے بی آر ایس ارکان نے ایوان کے وسط میں احتجاج کیا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی اور بی آر ایس رکن جگدیش ریڈی کے درمیان نوک جھونک ہوئی۔ مباحث میں حصہ لیتے ہوئے جگدیش ریڈی نے جب تحقیقاتی کمیشن کے قیام پر اعتراض جتایا تو اُس وقت چیف منسٹر ریونت ریڈی نے مداخلت کی۔ اُنھوں نے کہاکہ جگدیش ریڈی کے اظہار خیال سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود کو چرلہ پلی جیل میں دیکھ رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے سوال کیاکہ سابق چیف منسٹر کے سی آر اور بی آر ایس کے قائدین تحقیقاتی کمیشن سے خوفزدہ کیوں ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ جگدیش ریڈی نے اسمبلی میں حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے تاکہ حقائق منظر عام پر آئیں۔ حکومت نے جگدیش ریڈی کے مطالبہ پر تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا لیکن کے سی آر کمیشن کے خلاف ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ جسٹس ایل نرسمہا ریڈی کمیشن کی برخاستگی کے لئے کے سی آر نے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی لیکن عدالت نے مسترد کردیا۔ سپریم کورٹ سے رجوع ہونے پر عدالت نے تحقیقاتی کمیشن کی برقراری کے حق میں فیصلہ دیا تاہم جسٹس نرسمہا ریڈی کے بارے میں کے سی آر کے اندیشوں کو دیکھتے ہوئے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ نئے صدرنشین کا تقرر کرے۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ تلگودیشم رکن کی حیثیت سے اُنھوں نے ایوان میں برقی شعبہ میں بے قاعدگیوں پر آواز اُٹھائی تھی لیکن اُنھیں مارشلس کے ذریعہ ایوان سے باہر کردیا گیا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ یادادری پراجکٹ 8 سال گزرنے کے باوجود آج تک مکمل نہیں ہوا۔ اِسی طرح بھدرادری پراجکٹ کے کاموں کو نامزدگی کی بنیاد پر بی ایچ ای ایل کے حوالے کیا گیا اور بی ایچ ای ایل نے گجرات کی ایک خانگی کمپنی کو تعمیری کام سب لیز پر دیا ہے۔ چیف منسٹر کے مطابق اِس معاملہ میں سابق حکومت نے بھاری کمیشن حاصل کیا۔ اب جبکہ بی آر ایس قائدین کے لئے جیل جانا یقینی ہوچکا ہے، کے سی آر نے کمیشن کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی۔ اُنھوں نے کہاکہ بے قاعدگیوں کے نتیجہ میں محکمہ برقی کو 8 تا 9 ہزار کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ چیف منسٹر نے چھتیس گڑھ سے زائد شرح پر برقی کی خریدی سے متعلق معاہدات کی تفصیلات پیش کیں اور کہاکہ دیگر ریاستوں نے کم شرح پر برقی حاصل کی ہے۔ اُنھوں نے سوال کیاکہ قائد اپوزیشن اگر بے قصور ہیں تو پھر وہ کمیشن کے روبرو پیش کیوں نہیں ہوئے۔ شہر میں برقی کی مؤثر سربراہی کے بی آر ایس قائدین کے دعوے پر ریونت ریڈی نے کہاکہ چندرابابو نائیڈو اور راج شیکھر ریڈی نے حیدرآباد اور اُس کے اطراف سرمایہ کاری میں اضافہ کے لئے بلاوقفہ برقی سربراہی کے اقدامات کئے تھے۔ ریاست کی تقسیم کے وقت آنجہانی جئے پال ریڈی نے برقی شعبہ میں تلنگانہ کی حصہ داری میں اضافہ کے اقدامات کئے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ سونیا گاندھی اور جئے پال ریڈی کی مساعی کے نتیجہ میں تلنگانہ میں برقی بحران ختم ہوا ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ سابق میں بی آر ایس حکومت نے اُنھیں مختلف مسائل پر جیل بھیجا تھا۔ کے ٹی آر کے غیر قانونی فارم ہاؤز کے مسئلہ پر مجھے چرلہ پلی جیل بھیجا گیا اور ڈیٹینشن سیل میں رکھا گیا تھا۔ چیف منسٹر نے بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان خفیہ مفاہمت کا الزام عائد کیا اور کہاکہ ہریش راؤ اور کے ٹی آر نے نئی دہلی جاکر بی جے پی قائدین سے ملاقات کی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اسمبلی میں بی آر ایس رکن کی جانب سے کشن ریڈی کے بیان کا حوالہ دینا دونوں پارٹیوں میں خفیہ مفاہمت کو ثابت کرتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس نے لوک سبھا چناؤ کے موقع پر 15 نشستوں پر کامیابی کا دعویٰ کیا تھا لیکن ایک بھی نشست حاصل نہیں ہوئی اور کئی حلقہ جات میں بی آر ایس امیدواروں کی ضمانت بھی نہیں بچی۔ اُنھوں نے کہاکہ چندرابابو نائیڈو اور وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے پاس گھٹنے ٹیکنے والے بی آر ایس قائدین آج بڑے دعوے کررہے ہیں۔ چندرابابو نائیڈو اور راج شیکھر ریڈی حکومتوں میں بی آر ایس قائدین وزیر کی حیثیت سے شامل کئے گئے۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر اور چھتیس گڑھ سے برقی خریدی معاہدات میں بے قاعدگیوں کی جانچ کرے گی اور کمیشن کا جلد احیاء عمل میں لایا جائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ آندھراپردیش تنظیم جدید قانون کے تحت این ٹی پی سی کو برقی پیداوار میں تلنگانہ کی مدد کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ بی آر ایس ارکان کے احتجاج کے دوران ریونت ریڈی نے کہاکہ بی آر ایس قائدین کے بے نامی کنٹراکٹرس کو بی ایچ ای ایل کے ذریعہ سب لیز پر دیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ بے قاعدگیوں میں جو بھی ملوث پائے جائیں گے اُنھیں بخشا نہیں جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہاکہ بے قاعدگیوں کے منظر عام پر آنے کے خوف سے بی آر ایس قائدین تحقیقات پر شبہات کا اظہار کررہے ہیں۔ بھدرادری پاور پراجکٹ 7290 کروڑ کی لاگت سے 2015 ء میں شروع کیا گیا اور اُسے 2017 ء میں مکمل ہونا تھا لیکن 2022 ء میں مکمل کرتے ہوئے جملہ 10515 کروڑ خرچ کئے گئے۔ بھدرادری پراجکٹ کے ذریعہ ایک میگاواٹ برقی کی تیاری پر 9 کروڑ 73 لاکھ خرچ ہورہے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہاکہ بی آر ایس حکومت کی 10 سالہ کارکردگی پر حکومت یکم اور 2 اگسٹ اسمبلی میں مباحث کے لئے تیار ہے۔ 1