قائدین گھروں میں نظر بند ، بس بھون کے پاس کشیدگی ، قائدین کی ناگی ریڈی کو یادداشت پیش
حیدرآباد ۔ 9 ۔ اکٹوبر ( سیاست نیوز ) بی آر ایس پارٹی نے سٹی آر ٹی سی بس کرایوں میں اضافہ کے خلاف بطور احتجاج بسوں میں بس بھون پہونچ کر احتجاج کیا ۔ آر ٹی سی کے مینجنگ ڈائرکٹر کو تحریری یادداشت پیش کرتے ہوئے اضافہ شدہ بس کرایوں سے فوری دستبرداری اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ صبح سے ہی پولیس نے کے ٹی آر ، ہریش راو کے علاوہ شہر کے دوسرے ارکان اسمبلی کے مکانات کے سامنے بھاری بندوبست کیا تاہم بی آر ایس کے قائدین اپنے تیار کردہ منصوبے کے تحت شہر کے مختلف مقامات سے بس بھون پہونچ کر اپنا احتجاج درج کرایا ۔ کے ٹی آر ، ہریش راو ، ٹی سرینواس یادو ، سبیتا انداریڈی ، پدماراو گوڑ ، سدھیر ریڈی ، ایم گوپال ، کے وینکٹیش ، لکشماریڈی ، ارکان قانون ساز کونسل ڈی سرینواس ، وانی دیوی کے علاوہ دوسرے قائدین بسوں کے ذریعہ بس بھون پہونچے ۔ کے ٹی آر کی قیادت میں بی آر ایس کے قائدین تلنگانہ آر ٹی سی کے مینجنگ ڈائرکٹر ناگی ریڈی سے ملاقات کی ۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں آر ٹی سی بسوں کے کرایوں میں جو اضافہ کیا گیا ہے اس سے فوری دستبرداری اختیار کرنے کا تحریری طور پر مطالبہ کیا ۔ آر ٹی سی بسوں میں خواتین کو مفت سہولت فراہم کرنے کے بعد حکومت کی جانب سے آر ٹی سی کو کتنے بقایا جات ہیں اس کی تفصیلات طلب کی ۔ ناگی ریڈی نے بی آر ایس کے قائدین کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے مہا لکشمی اسکیم متعارف کرانے کے بعد آر ٹی سی کو 1353 کروڑ روپئے کے بقایا جات ہیں ۔ کے ٹی آر نے آر ٹی سی کے ایم ڈی کو بتایا کہ کے سی آر نے بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں آر ٹی سی کو 9246 کروڑ روپئے گرانٹس جاری کیا تھا ۔ بی آر ایس کی جانب سے چلو بس بھون پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس پر شہر کے مختلف مقامات پر پولیس نے بی آر ایس کے قائدین کو بس بھون پہونچنے سے روک دیا پارٹی قائدین کو حراست میں لینے پر تھوڑی دیر کیلئے بس بھون کے پاس کشیدگی پیدا ہوگئی ہے ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس حکومت خواتین کو بس میں مفت سفر کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہوئے گھر کے مردوں اور بچوں سے کرایوں میں اضافہ کرتے ہوئے اس کی پابجائی کررہی ہے جس کی بی آر ایس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔ 2