بقایا جات اور زیر التواء بلز کی بروقت عدم اجرائی پر ٹیچرس کی ناراضگی

   

انتخابات میں اہم رول ادا کرنے والے ٹیچرس مالی معاملات میں حکومت کے رویے سے نالاں
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : سرکاری ملازمین بالخصوص ٹیچرس تنخواہوں اور بقایا جات کی بروقت اجرائی کے بجائے تاخیر کرنے پر موجودہ بی آر ایس حکومت پر عدم اطمینان اور ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں ۔ انتخابات میں اہم کردار ادا کرنے والے ٹیچرس مالی معاملات میں حکومت کے رویے سے نالاں ہیں ۔ چند اسکول کے ٹیچرس نے برسوں سے بقایا جات جاری نہ کرنے کی شکایت کی ہے ۔ میڈیکل بلز ، سرنڈر شدہ D.A-ELS اور پی آر سی بقایا جات کی عدم اجرائی سے اپنی ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں ۔ ایک سرکاری اسکول کے ٹیچر نریش سومیا ہگڑی نے بتایا کہ ریاستی حکومت سرکاری ملازمین کو ہر ماہ تنخواہ دے رہی ہے ۔ مگر گذشتہ تین تا چار برسوں سے ہر ماہ پہلی تاریخ کو تنخواہ نہیں مل رہی ہے ۔ 10 تا 15 دن کی تاخیر سے مل رہی ہے ۔ میڈیکل ری ایمبرسمنٹ کے بشمول بیشتر بقایا جات کے بلز زیر التواء ہیں۔ شہر حیدرآباد کے بشمول ریاست کے تمام اضلاع میں یہی صورتحال ہے ۔ گورنمنٹ ہائی اسکول ٹیچر بھدرا دری کتہ گوڑم راما دیوی نے بتایا کہ ہمیں پہلے ہر مہینہ کی پہلی یا دوسری تاریخ کو تنخواہ مل جاتی تھی لیکن اب اس میں 10 سے 14 دن کی تاخیر ہورہی ہے ۔ کئی بقایا جات زیر التواء ہیں ۔ بالخصوص سرنڈر چھٹیوں کے انکیشمنٹ بل ، جی پی ایف اور دیگر بقایا جات کے لیے ہمیں مہینوں انتظار کرنا پڑرہا ہے ۔ تلنگانہ اسٹیٹ یونائٹیڈ ٹیچرس فیڈریشن کے جنرل سکریٹری روی چھاوا نے کہا کہ سوائے حیدرآباد کے تمام ملازمین کو ماہانہ تنخواہ روٹیشن اساس پر مل رہی ہے ۔ سپلیمنٹری بلز مثلاً چھٹیوں کی تنخواہ ، ملازمت سے سبکدوشی کے فوائد ، میڈیکل ری ایمبرسمنٹ ، جی پی ایف کی ادائیگی ، TSGLI وغیرہ کی منظوری کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑرہا ہے ۔ جی بی ایچ ایس دریچمتا کے گورنمٹ ٹیچر محمد احمد خاں نے بتایا کہ ریاستی حکومت بروقت بقایا جات جاری نہیں کررہی ہے ۔ چند ٹیچرس مختلف اقسام کے بقایا جات کے لیے 8 تا 10 ماہ سے انتظار کررہے ہیں ۔ EL انکیشمنٹ ، GPF/LIF لون GPF پارٹ فائینل ، میڈیکل ری ایمبرسمنٹ ، تنخواہوں کے بقایا جات وغیرہ زیر التواء ہیں اس کے علاوہ ڈی اے اور پی آر سی کی قسطیں 8 تا 10 ماہ تاخیر کا شکار ہیں ۔ نلہ کنٹہ گورنمنٹ اسکول کے ٹیچر متیالہ رویندر نے کہا کہ تنخواہوں کے ساتھ دیگر بلز زیر التواء ہیں ۔ یہ بلز لاکھوں میں ہیں ۔ دیگر چند ٹیچرس نے بتایا کہ سرکاری ملازمت ہونے کی وجہ سے بینکوں کے قرض اور گھریلو دیگر اشیاء آسان قسط پر حاصل کی جاتی ہے ۔ ایل آئی سی کے علاوہ دیگر ادائیگوں میں سرکاری ملازمین کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔۔ ن