بلقیس کے مجرمین کو معافی دے کر رہا کیا جانا خواتین و بیٹیوں کی توہین

   

پرتاپ گڑھ: بابائے قوم مہاتما گاندھی کی سرزمین گجرات کی بی جے پی حکومت کے ذریعہ شدید جرائم اجتماعی عصمت دری کے مجرمین کو یوم آزادی کے موقع پر معافی دے کر رہا کیا گیا جو بدترین فرقہ وارانہ کارڈ کھیلا گیا ہے ،یہ سبھی خواتین و بیٹیوں کی توہین ، و ناقابل معافی ہے ،اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔بی جے پی نے ایک مظلوم خاتون بلقیس بانوں کے مجرمین کو رہا کرکے جو مسلم دشمنی کا ثبوت دیا ہے ،اس سے پوری انسانیت شرمسار ہوئی ہے ۔پیس پارٹی کے قومی صدر مجرمین کے رہا کئے جانے پر اپنے ردعمل میں مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا ۔ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ خواتین کو سیاست میں ریزرویشن کی وکالت و مسلم خواتین کو انصاف دلانے کے لئے تین طلاق پر قانون لانے والی بی جے پی کی گجرات حکومت نے مسلم خاتون بلقیس بانوں کی اجتماعی عصمت دری کے گیارہ مجرمین کو یوم آزادی کے موقع پر معافی دے کر، رہا کرکے یہ پیغام ضرور دیا کہ ان کی نظروں میں خواتین کا کوئی احترام نہیں ہے ۔ جہاں وزیر اعظم نریندر مودی بیٹی بچاو بیٹی پڑھاو کا نعرہ دیا و خواتین کی عزت آبرو کی حفاظت کے لئے سخت قانون کی ہمیشہ حمایت کی ،اور انہوں نے یوم آزادی کے موقع پر لال قلع کی فصیل سے خواتین کے تئیں معاشرے میں احترام کی بات ،اور تشدد پر فکر کا اظہار کر رہے تھے ،وہیں گجرات کی بی جے پی حکومت بلقیس بانوں کے مجرمین کو رہا کر انہیں امرت مہوتسو کا تحفہ دے رہی تھی ۔یہی نہیں جیل سے باہر آتے ہی مجرمین کا والہانہ استقبال نے گاندھی کے قاتل گوڈسے کی بھکتی و گجرات فسادات کی یاد ضرور تازہ کر دی ہے ۔یہاں ایک جانب بلقیس بانوں سے انصاف چھین لیا گیا ،تو دوسری جانب بلقیس بانوں و دوسرے مظلومین کے لئے قانونی لڑائی لڑنے والی تیستا شیتلواڑ کو جیل کی سلاخوں میں پہونچا دیا گیا