حیڈرا کی جانب سے اقدامات کا آغاز ۔ ویموس ٹیکنو کریٹس کو ذمہ داری سونپی گئی
حیدرآباد:یکم اکٹوبر (سیاست نیوز) بم رکن الدولہ جھیل کی بحالی کے بعد اب بم رکن الدولہ تاریخی باؤلی کی بحالی کے اقدامات شروع کئے گئے ہیں۔حکومت نے بم رکن الدولہ جھیل کی بحالی کے بعد باؤلی کی نشاندہی کرکے اس کے احیاء کا فیصلہ کیا اور اس کام کی ذمہ داری ’بم رکن الدولہ‘ جھیل اور پارک کی نگرانی کرنے والی ایجنسی ویموس ٹیکنوکریٹس کو دی گئی ہے۔100ایکڑ پر محیط بم راکن الدولہ جھیل پر قبضہ جات اور تعمیرات کے بعد اب محض 4 ایکڑ کی باقی رہ گئی ہے جسے ’حیڈرا‘ نے اپنے قبضہ میں لے کر اس جھیل اور پارک کی ترقی کے اقدامات کئے ہیںاور جاریہ سال کے اوائل میں جھیل کا افتتاح کرکے اسے عوام کیلئے کھولا جا چکا ہے۔ کمشنر ’حیڈرا‘ اے وی رنگا ناتھ نے مارچ میں چھیل کے افتتاح کے موقع پر چیف منسٹر ریونت ریڈی کوسلطنت آصفیہ کے آبی نظام اور نہر حسینی کے متعلق متوجہ کروایا تھا اور چیف منسٹر نے اس تاریخی آبی نظام کی بحالی اور نہر حسینی و بم رکن الدولہ باؤلی کی بحالی کے اقدامات کی ہدایت دی تھی ۔ ’حیڈرا‘ اگر نہری حسینی کی بحالی اور باؤلی کو بحال کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو سلطنت آصفیہ کے دور میں آبی نظام کی اہمیت اور اس کی افادیت کے علاوہ ماحولیات کے تحفظ میں کامیابی حاصل ہوگی۔ ذرائع کے مطابق نہر حسینی کی بحالی ‘ بم رکن الدولہ کی بحالی سے زیادہ اہم ہے اسی لئے ’حیڈرا‘ نے جھیل کی بحالی کے بعد اب ’باؤلی ‘ کی بحالی اور نہر حسینی پر توجہ دے کر تاریخی آبی نظام کو بحال کرنے کے اقدامات شروع کئے ہیں۔ ’حیڈرا‘ نے بم رکن الدولہ تالاب میں قبضہ جات کے ساتھ اپنی کاروائیوں کا آغاز کیا تھا اور یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ موجودہ جھیل اور پارک کو ترقی دینے کے بعد معاملہ کو ختم کردیا جائے گا لیکن ’حیڈرا‘ نے جس انداز میں نہر حسینی اور بم رکن الدولہ باؤلی کی بحالی کے اقدامات کا آغاز کیا ہے وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس تاریخی جھیل کو ممکنہ حد تک وسعت دینے اور تاریخی اثاثہ کو محفوظ کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔3