گوہاٹی: آسام میں پولیس نے بارپیٹا ضلع سے مزید دو افراد کو بنگلہ دیش میں ایک دہشت گرد تنظیم سے تعلق کے شبہ میں گرفتار کیا ہے جو القاعدہ نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ ان میں سے ایک شخص کو اتوار کی رات گرماری پتھر سے گرفتار کیا گیا تھا ، اور اسے مقامی عدالت نے آٹھ دن کی پولیس تحویل میں بھیج دیا تھا ،جبکہ دوسرے کو منگل کو کال گچھیا علاقے کے ایک گاؤں سے گرفتار کیا گیا تھا، اور اسے ابھی عدالت میں پیش کیا جانا باقی تھا۔ اسپیشل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (امن و امان) گیانیندر پرتاپ سنگھ نے عدالت کو بتا یا تھا کہ بنگلہ دیش کی دہشت گرد تنظیم انصاربنگلہ ٹیم سے مبینہ تعلق کے الزام میں موریگاؤں، گولپارہ، گوہاٹی اور بارپیٹا میں 11 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی ایک ٹیم، جو منگل کو بارپیٹا پہنچی، اب ان تمام ملزمان سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ آسام پولیس کی اسپیشل برانچ بھی ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ گرفتاریوں کا سلسلہ موریگاؤں میں 26 جولائی کو مفتی مصطفی نامی شخص کے ساتھ شروع ہوا، جو سورچولا گاؤں میں ایک مدرسے کا انتظام کرتا تھا۔ اگلے دن افسرالدین بھویاں نامی کمپیوٹر کی دکان کے مالک کو گرفتار کیا گیا۔پولیس نے کہا تھا کہ وہ آسام بھر میں نجی مدارس پر کسی بھی مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔