بوریل کا ’آئی سی سی‘ کے فیصلہ پر عملدرآمد کا مطالبہ

   

برسلز: یورپی یونین کے سبکدوش ہونے والے خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے بلاک کے تمام رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے فیصلوں کا احترام کریں جن میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے خلاف جاری کردہ وارنٹ گرفتاری کا فیصلہ شامل ہے۔ بوریل جن کی مدت ملازمت رواں ماہ ختم ہو رہی ہے نے برسلز میں صحافیوں کو بتایا کہ”ہم آئی سی سی کو کمزور نہیں کر سکتے۔ یہ عالمی انصاف کے حصول کا واحد راستہ ہے”۔انہوں نے مزید کہا کہ “یہ سیاسی نہیں ہے۔ یہ ایک قانونی ادارہ ہے جو معزز لوگوں کی طرف سے تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ادارہ بہترین ججوں پر مشتمل ہے”۔بین الاقوامی فوجداری عدالت نے گذشتہ ہفتے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کے الزام میں نیتن یاہو، سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ اور حماس کے رہ نما محمد ضیف ابراہیم المصری کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ .اگرچہ یورپی یونین کے تمام رکن ممالک بین الاقوامی فوجداری عدالت کے بانی معاہدے پر دستخط کرنے والے ہیں۔ فرانس نے کل چہارشنبہ کو کہا کہ اس کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے فیصلوں کے خلاف استثنیٰ حاصل ہے۔ اسرائیل نے اس عدالت کے فریم ورک پر دستخط نہیں کیے ہیں۔اٹلی نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کی گرفتاری اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ اسرائیلی حکومت کے سربراہ رہیں گے۔آئی سی سی کے ججوں نے کہا کہ اس بات پر یقین کرنے کیلئے معقول بنیادیں موجود ہیں کہ نیتن یاہو اور گیلنٹ مجرمانہ طور پر قتل، ایذا رسانی اور غزہ کی شہری آبادی کے خلاف ایک منظم حملے کے تحت بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے ساتھ قتل، ایذا رسانی اور فاقہ کشی کیلئے مجرمانہ طور پر ذمہ دار تھے۔اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ عالمی فوج داری عدالت کے فیصلہ کو چیلنج کرے گا۔