کیا آپ جانتی ہیں ہر سال دنیا بھر میں کتنی خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔تقریباً 1.3 ملین سے زیادہ۔آپ سوچ رہی ہوں گی دنیا بھر کی ضائع خوراک سے آپ کا کیا تعلق۔یہ بات نہایت سادہ سی ہے کہ اچھائی کا آغاز اپنے گھر سے کرنا چاہئے۔اس طرح دیے سے دیا جلے گا آپ اپنی رشتہ دار خواتین کو بھی سمجھا پائیں گی کہ کھانا ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ ایسے کونسے طریقے ہیں جن سے آپ اپنے گھر کی اشیاء ضائع ہونے سے بچا سکتی ہیں۔سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ آپ کے گھر میں کتنی سبزی‘ پھل‘ گوشت‘ اناج استعمال ہوتا ہے اس کے مطابق ہی خریدیں۔زیادہ سامان خریدنا‘ فریج میں رکھ کر خراب کرنا اچھی بات نہیں ہے۔ جب بھی کھانے کی تیاری کرنے لگیں اور سبزیاں کاٹنے لگیں تو سبزی کے ڈنٹھل‘ پتے‘ بیج ہر چیز میں قدرتی غذائیت اور توانائی موجود ہوتی ہے جو چیز سالن کیلئے استعمال نہ ہو سکے اسے بطور سلاد استعمال کریں اس کے علاوہ جو سبزی کے چھلکے پھلوں کے چھلکے آپ کو بیکار لگیں انہیں جانوروں کو کھلا دیں اس کے علاوہ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ جو بھی پکائیں اس میں سے کسی ہمسائے‘ کسی سائل یا ملازمین کو ضرور شریک کریں۔ اس طرح بانٹ کر کھانے سے آپ کو دلی خوشی بھی ہو گی اور آپ کا کھانا بھی ضائع نہیں ہو گا۔اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچے ہوئے کھانے کو فریج میں رکھ کر دوسرے دن بھی استعمال کیا جاتا ہے لیکن ایسا کرنا حفظان صحت کے اُصولوں کے مغائر ہیں ۔ کسی حد تک یہ بات قابل قبول ہے لیکن آٹھ آٹھ دس دس دن کا تک غذا کو فریج میں رکھنا نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔ مذہب اسلام میں تو ایسے کئی پیغمبر اور اولیاء گزرہے ہیں جو اکیلے کبھی کھانا نہیں کھائے تھے ۔ اگر دسترخواں پر وہ اکیلے ہوں اور کوئی ساتھ نہ ہو تو گلی میں نکل جاتے اور کسی بھی ضرورت مند اجنبی کو اپنے ساتھ گھر لاکر اس کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے جیسا کہ اوپر کی سطور میں تحریر کیا گیا ہے کہ کھانا ضرورت کے مطابق ہی بنائیں اور کھانے بنانے کیلئے درکار اشیاء بھی اتنی ہی مقدار میں خریدیں جن کی ضرورت ہے ۔