نئی دہلی۔20؍مئی ( ایجنسیز ) مدھیہ پردیش کے دھار میں بھوج شالا۔کمل مولا مسجد تنازعہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کو جلد ہی سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گا۔بورڈ کا کہنا ہے کہ عدالت نے تاریخی دستاویزات، آثار قدیمہ کے شواہد اور دیرینہ مذہبی استعمال پر مناسب غور نہیں کیا۔بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر ایس کیو آر الیاس نے ایک بیان میںکہاکہ ہائی کورٹ کا فیصلہ عبادت گاہوں کے قانون 1991 کی روح کے خلاف جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد مذہبی مقامات کی حیثیت کو برقرار رکھنا تھا جیسا کہ وہ آزادی کے وقت موجود تھے لیکن بھوج شالا کیس میں اس جذبے کو نظر انداز کر دیا گیا۔