بی آر ایس لوک سبھا انتخابات سے قبل عجیب و غریب صورتحال کا شکار

   

اہم قائدین پارٹی سے مستعفی ، دیگر قائدین مقابلہ کرنے کیلئے بھی تیار نہیں
حیدرآباد ۔ 9 مارچ (سیاست نیوز) بی آر ایس کو لوک سبھا انتخابات سے قبل سیاسی جھٹکے لگ رہے ہیں۔ ایک طرف ارکان پارلیمنٹ پارٹی سے مستعفی ہورہے ہیں دوسری طرف مقابلہ کرنے کی پارٹی قائدین ہمت نہیں کررہے ہیں جس سے پارٹی قیادت فکرمند نظر آرہی ہے۔ تلنگانہ تحریک سے سیاسی جنم لینے والی پارٹی مسلسل دو میعاد تک حکمرانی کرتے ہوئے اپنے سیاسی دبدبے کو برقرار رکھا تھا۔ 2023ء کے عام اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد بی آر ایس پارٹی سیاسی مسائل سے دوچار ہوگئی۔ ایک ایک کرکے پارٹی قائدین مستعفی ہورہے ہیں۔ لوک سبھا انتخابات کی تیاری کرنے کیلئے سربراہ بی آر ایس کے سی آر نے خود کمان سنبھال لی ہے۔ پارٹی قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے مشاورت کرنے کے ساتھ ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ باوجود اس کے پارٹی قائدین بی آر ایس سے بدستور مستعفی ہورہے ہیں۔ یہی نہیں لوک سبھا انتخابات میں مقابلہ کرنے سے بھی انکار کررہے ہیں۔ واضح رہیکہ ریاست میں لوک سبھا کی 17 نشستیں ہیں۔ ماضی میں بی آر ایس کے 9 ارکان پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے۔ اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ریاست میں سیاسی صورتحال پوری طرح تبدیل ہوگئی ہے۔ چند حلقوں میں مقابلہ کرنے کیلئے بی آر ایس کو امیدوار دستیاب نہیں ہورہے ہیں۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل کے صدرنشین جی سکھیندر ریڈی کے فرزند امیت ریڈی پہلے حلقہ لوک سبھا نلگنڈہ ٹکٹ کے دعویدار تھے۔ سکھیندر ریڈی نے اپنے فرزند کے ٹکٹ پر بی آر ایس قیادت سے تبادلہ خیال کیا تھا۔ تاہم امیت ریڈی نے مقابلہ نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گذشتہ لوک سبھا انتخابات میں سابق وزیر ٹی سرینواس یادو کے فرزند سائی نے حلقہ لوک سبھا سکندرآباد سے مقابلہ کیا تھا وہ بھی اس مرتبہ مقابلہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ سابق وزیر ملاریڈی نے اپنے فرزند بھدرا ریڈی کو حلقہ لوک سبھا ملکاجگری سے ٹکٹ کیلئے پارٹی قیادت پر دباؤ بنایا تھا۔ تاہم وہ بھی مقابلہ کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ ملاریڈی نے اس کی توثیق کردی ہے۔ حلقہ لوک سبھا چیوڑلہ کی نمائندگی کرنے والے موجودہ رکن پارلیمنٹ رنجیت ریڈی بھی مقابلہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ حلقہ لوک سبھا ظہیرآباد کی نمائندگی کرنے والے بی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ بی بی پاٹل بی جے پی میں شامل ہوگئے۔ بی جے پی نے انہیں امیدوار بنایا ہے۔ حلقہ لوک سبھا ناگرکرنول کی نمائندگی کرنے والے بی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ راملو اپنے فرزند کے ساتھ بی جے پی میں شامل ہوگئے۔ اسی حلقہ سے بی جے پی نے ان کے فرزند کو امیدوار بنایا ہے۔ 2
حلقہ لوک سبھا پداپلی کی نمائندگی کرنے والے بی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ وینکٹیش نیتا کانگریس میں شامل ہوگئے ہیں۔ بی آر ایس کے چند ارکان اسمبلی کانگریس سے رابطے میں ہے۔ بی آر ایس کے صدر کے سی آر ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر چیف منسٹر ریونت ریڈی اور کانگریس حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پارٹی کیڈر میں نیا جوش و خروش بھرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر بی آر ایس کے قائدین باوجود اس کے کانگریس یا بی جے پی میں شامل ہورہے ہیں۔ بی آر ایس نے تاحال چار امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔ ورنگل، محبوب آباد، عادل آباد، پداپلی، محبوب نگر، بھونگیر لوک سبھا حلقوں میں بی آر ایس کی عجیب صورتحال ہے۔ چند قائدین مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے تاہم اخراجات پارٹی قیادت کو برداشت کرلینے پر زور دے رہے ہیں۔2