بی آر ایس کو اقتدار حاصل ہوتے ہی HILT پالیسی منسوخ کردی جائے گی:کے ٹی آر

   

حیدرآباد : /8 اگست (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کانگریس حکومت کی HILT POLICY کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس حکومت تشکیل پانے کے بعد اس اسکیم کو ختم کردیا جائے گا ۔ آج میڈیا سے غیر رسمی بات چیت میں کے ٹی آر نے الزام لگایا کہ حکومت اس پالیسی کی آڑ میں حیدرآباد کے صنعتی علاقوں میں موجود ہزاروں ایکڑ قیمتی اراضیات کو لینڈ مافیا کے حوالے کرنے کی سازش کررہی ہے ۔ کانگریس حکومت نے شہر کے قدیم انڈسٹریل زونس کو ملٹی یوز زونس میں تبدیل کرنے کے نام پر “HILT” پالیسی متعارف کروائی ہے ۔ کے ٹی آر نے الزام عائد کیا کہ اس پالیسی کے ذریعہ شہر کی تقریباً 10 ہزار ایکر صنعتی اراضیات مخصوص اور من پسند لوگوں کو دینے کا انتظام کیا جارہا ہے جس سے حیدرآباد کے صنعتی مستقبل کو نقصان پہنچے گا ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ریاست میں بی آر ایس پارٹی بھاری اکثریت کے ساتھ حکومت تشکیل دے گی جس کے بعد ہلٹ پالیسی کو فوری طور پر منسوخ کردیا جائے گا ۔ صنعتی مقاصد کیلئے مختص کی گئی اراضیات پر تجارتی یا دیگر مقاصد کیلئے مختص کی گئی اجازتوں کو کالعدم قرار دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی صنعتکار یا سرمایہ کار اس ہلٹ پالیسی کے تحت رقم ادا کرے گا یا اراضیات حاصل کرے گا اسے مستقبل میں شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ 2/y

بی آر ایس کی جانب سے تمام انڈسٹریل اسوسی ایشن کو تفصیلی مکتوبات روانہ کئے جائیں گے ۔ تاکہ انہیں اس پالیسی کے قانونی و معاشی خطرات سے آگاہ کیا جاسکے ۔ اس کے علاوہ بی آر ایس کی جانب سے آئندہ ماہ ستمبر میں اس پالیسی کے خلاف عوامی اور صنعتی سطح پر خصوصی شعور بیدار پروگرام کا انعقاد کیا جائے گا ۔ 2/y