سارے ملک میں تلنگانہ ماڈل کی ضرورت ، ٹی آر ایس کے اضلاع صدور کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 9 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : ٹی آر ایس کے اضلاع صدور نے ’ بی جے پی مکت بھارت ‘ کے لیے چیف منسٹر کے سی آر کو قومی سیاست میں قدم رکھنے کی اپیل کی اور اس مہم میں مکمل تعاون کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنمنٹ وہپ بی سمن نے کہا کہ ملک میں بی جے پی کے خلاف ایک نئے متبادل کی ضرورت ہے ۔ ملک کی بہتری کے لیے کے سی آر کو ایک اور تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں شیطانی راج چل رہا ہے ۔ جس کا چیف منسٹر کے سی آر ہی خاتمہ کرسکتے ہیں ۔ بی سمن نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے 8 سالہ دور حکومت کے دوران ملک تمام شعبوں میں پچھڑ گیا ہے ۔ غربت اور بیروزگاری کے سطح میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے ۔ روپئے کی قدر گھٹ گئی ہے ۔ مودی کے غلط فیصلوں سے ملک کا جمہوری و دستوری نظام بگڑ گیا ہے ۔ کارپوریٹ سیکٹر پر مہربانی کی جارہی ہے ۔ غریبوں اور کسانوں پر ظلم و زیادتی ڈھائی جارہی ہے ۔ ملک کی بہتری ، فرقہ پرستی کے خاتمہ ، سیکولرازم کے استحکام کے لیے چیف منسٹر کے سی آر قومی سیاست میں قدم رکھنے کی اپیل کی اور کہا کہ ملک کے عوام چیف منسٹر کے سی آر کو قبول کریں گے ۔ ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی جیون ریڈی نے کہا کہ ’ بی جے پی مکت بھارت ‘ کو یقینی بنانے کے لیے ٹی آر ایس کو قومی پارٹی میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی کے 8 سالہ دور حکومت میں سماج کے کسی بھی طبقہ کا بھلا نہیں ہوا ہے ۔ کسانوں کی ترقی اور زرعی شعبہ کو استحکام چیف منسٹر کے سی آر سے ہی ممکن ہے ۔ تلنگانہ ماڈل سارے ملک میں متعارف کرانے کی ضرورت ہے ۔ صدر ٹی آر ایس کاماریڈی خواجہ مجیب الدین نے کہا کہ سیاسی فائدے کے لیے بی جے پی نفرت کا زہر گھولتے ہوئے گنگا جمنی تہذیب کو نقصان پہونچا رہی ہے ۔ جس کی ٹی آر ایس سخت مذمت کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر کی قیادت میں تلنگانہ تمام مذاہب اور طبقات کے لیے گلدستہ میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ سرکاری سطح پر عیدیں اور تہواریں منائی جارہی ہیں بغیر کسی بھید بھاؤ ، مذہب اور ذات پات سے بالاتر ہو کر فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کی جارہی ہے ۔ ملک کے عوام تلنگانہ کو امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سارے ملک میں تلنگانہ ماڈل رائج ہو ۔۔ ن