بی جے پی نے مجھے چیف منسٹر بنانے کی پیشکش کی تھی ‘ کویتا کا دعوی

,

   

تلنگانہ میںشنڈے ماڈل ‘ اختیار کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ میں نے آپریشن کمل کو ناکام بنادیا
حیدرآباد /18 نومبر ( سیاست نیوز ) ٹی ار ایس کی ایم ایل سی کے کویتا نے سنسنی انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے انہیں تلنگانہ میں شنڈے ماڈل کی تجویز پیش کی تھی ۔ زعفرانی جماعت نے اپنے دوستوں اور ہمخیال اداروں کے ذریعہ والد چیف منسٹر کے سی آر کے خلاف بغاوت پر چیف منسٹر بنانے کا پیشکش کیا تھا جس کو ٹھکراتے ہوئے انہوں نے ٹی آر ایس حکومت کے خلاف سازش تیار کرنے والی طاقتوں کے منھ پر طمانچہ رسید کیا ۔ حال میں ٹی آر ایس کے توسیعی اجلاس سے خطاب میں چیف منسٹر کے سی آر نے اپنی دختر کے کویتا کو بی جے پی سے آفر کا دعوی کرکے سب کو حیرت زدہ کردیا تھا اور بی جے پی کے خلاف آر پار کی لڑائی کا اعلان کرکے پارٹی ارکان اسمبلی کو چوکنا رہنے کی ہدایت دی تھی ۔ جس کے بعد ٹی آر ایس اور بی جے پی میں لفظی جنگ شروع ہوگئی جو آج تشدد اور ایک دوسرے کے خلاف احتجاج میں تبدیل ہوگئی ۔ مہاراشٹرا میں ادھوٹھاکرے کی حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے ایکناتھ شنڈے کو استعمال کیا گیا جنہوں نے ناراض ارکان اسمبلی کے ساتھ چیف منسٹر ادھوٹھاکرے کے خلاف بغاوت کی تھی ۔ جس کو’ شنڈے ماڈل ‘ قرار دیا جارہا ہے ۔ بی جے پی کے تعاون سے شنڈے نے باغی ارکان اسمبلی کو آسام منتقل کرکے ایکناتھ شنڈے چیف منسٹر بن گئے ۔ مہاراشٹرا میں اس سیاسی طوفان کے پیچھے بی جے پی کا ہاتھ تھا جس سے سب واقف ہیں ۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے علاوہ بی جے پی کے دوسرے قائدین نے ریمارکس کیا تھا لیکن آج کویتا نے واضح کردیا کہ بی جے پی نے چیف منسٹر کے سی آر کے ارکان خاندان کے ذریعہ شنڈے ماڈل پر عمل کی ناکام کوشش کی تھی ۔ کویتا نے کہا کہ وہ شنڈے ماڈل کے جال میں نہیں پھنسی ان کی پیشکش کو وہ مسترد کرچکی ہیں ۔ اس کے بعد بی جے پی کیا کرے گی اس کو بھی دیکھ لیا جائے گا ہم سیاسی زندگی گذار رہے اور ہمیشہ عوام کے درمیان رہ کر ہر سیاسی ہتھکنڈے کا جواب دیں گے ۔ کویتا نے کہا کہ تلنگانہ عوام اپنی جماعتوں کے ساتھ ہرگز دغابازی نہیں کرتے پچھلے دورازے سے اقتدار کے ذینے تک پہونچنے کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے بلکہ سیاسی طاقت اور عوام کے دلوں کو جیت کر حکمرانی جانتے ہیں ۔ ایم ایل سی کے کویتا نے کہا کہ ان کی ساری سیاسی زندگی اپنے والد اور چیف منسٹر کے سی آر کے ساتھ رہے گی ۔ اس معاملہ میں وہ کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گی اور تلنگانہ عوام اور ٹی آر ایس خاندان کو کبھی دھوکہ نہیں دیں گی ۔ ٹی ار ایس کو مزید طاقتور بنانے بڑی چٹان سے ٹکرانے اور ہر چیلنج کا سامنا کرنے تیار رہیں گی ۔ کویتا نے کہا کہ مودی کے زیر قیادت مرکزی حکومت ا پوزیشن کے قائدین کو ڈرانے دھمکانے قومی تحقیقاتی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہیں ۔ لیکن وہ کسی امکانی کارروائی سے ڈرنے والی نہیں ہے ۔ جو لوگ وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے گھٹنے ٹیک رہے ہیں ان کے خلاف ای ڈی ، انکم ٹیکس ، اور سی بی آئی کی کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے ۔ جئے مودی کا نعرہ لگانے والوں کے خلاف کوئی مقدمات درج نہیں کئے جارہے ہیں اور نہ ہی انہیں پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا جارہا ہے۔ اپوزیشن کے قائدین پر انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے مقدمات درج کئے ہیں ۔ لیکن ملک بھر میں کسی بھی بی جے پی کے قائد کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ۔ زعفرانی جماعت کے قائدین کے خلاف کوئی کیس درج نہیں کیا گیا ۔ عوام استفسار کر رہے ہیں کویتا نے کہا کہ دہلی شراب اسکام سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ لیکن بی جے پی کی جانب سے اس میں ان کا نام گھسیٹا جارہا ہے ۔ انہیں یقین ہے بی جے پی اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوگی ۔ ن