بی جے پی کے خلاف محاذ میں اروند کجریوال کو شامل کرنے کے سی آر متحرک

   


انتخابی ریاستوں میں ٹیموں کی روانگی ، عنقریب ملک کی مختلف ریاستوں کے دورہ کا منصوبہ
حیدرآباد ۔19 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) قومی سطح پر بی جے پی کے خلاف سیکولر متبادل محاذ کی تشکیل کی سرگرمیوں میں مصروف کے سی آر اور نتیش کمار کو اس وقت مایوسی ہوئی جب چیف منسٹر نئی دہلی اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال نے مخالف بی جے پی محاذ میں شمولیت سے انکار کیا ہے ۔ اروند کجریوال نے جو گجرات اسمبلی انتخابات کیلئے پارٹی کی حکمت عملی کی تیاری میں مصروف ہیں، انہوں نے پارٹی کے قومی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 2024 ء لوک سبھا انتخابات کیلئے مخالف بی جے پی محاذ میں شمولیت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے پارٹی کیڈر سے کہا کہ وہ ملک کی 130 لوک سبھا نشستوں پر توجہ مرکوز کریں۔ اروند کجریوال کے اس موقف نے محاذ کی تیاری میں مصروف قائدین کو وقتی طورپر مایوس کردیا ہے لیکن چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اروند کجریوال سے ربط قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انہیں اپوزیشن اتحاد میں شمولیت کی ترغیب دی جائے ۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ کے سی آر مختلف علاقائی جماعتوں کے قائدین سے مسلسل ربط میں ہیں اور انہیں یقین ہے کہ اروند کجریوال اپوزیشن اتحاد میں شمولیت کے ذریعہ بی جے پی کی شکست کو یقینی بنائیں گے۔ چیف منسٹر کے سی آت اپنے حالیہ دورہ دہلی کے موقع پر اروند کجریوال سے ملاقات کرچکے ہیں اور انہوں نے بی جے پی کو شکست دینے کیلئے مشترکہ حکمت عملی کی تجویز پیش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق اروند کجریوال کے بیان کے بعد کے سی آر نے اپنے بعض قائدین کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ نئی دہلی میں عام آدمی پارٹی قائدین سے ملاقات کریں۔ کے سی آر عنقریب مختلف ریاستوں کے دورہ کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ اسی دوران چیف منسٹر نے قومی سیاسی پارٹی کے اعلان سے قبل مختلف ریاستوں میں سیاسی صورتحال اور نئی پارٹی کے امکانات کا جائزہ لینے کے لئے مختلف ٹیموں کو روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کرناٹک ، آندھراپردیش ، گجرات اور راجستھان کو ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی کی خصوصی ٹیمیں روانہ کی جائیں گی۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے قواعد کے مطابق قومی سیاسی پارٹی کی حیثیت سے برقراری کیلئے 4 یا اس سے زائد ریاستوں میں لوک سبھا اور اسمبلی الیکشن میں کم از کم 6 فیصد ووٹ حاصل کرنا ہوگا۔ اگر ٹی آر ایس کو قومی پارٹی کا موقف حاصل ہوتا ہے تو ملک بھر میں اس کے امیدواروں کے ایک ہی انتخابی نشان الاٹ کیا جائے گا۔ جن ریاستوں میں اسمبلی انتخابات قریب ہیں، کے سی آر سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کریں گے۔ ٹی آر ایس قائدین ہر ریاست میں سیاسی اور غیر سیاسی گروپس سے ملاقات کرتے ہوئے تلنگانہ میں فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات سے واقف کرائیں گے تاکہ مقابلہ کی صورت میں عوامی تائید حاصل ہوسکے۔ر