بیٹی کا والد کی 7000 کروڑ کی جائیداد سنبھالنے سے انکار

   

نئی دہلی: امبانی خاندان، ارب پتی تاجر ہندوجا برادران کے درمیان جائیداد کو لے کر برسوں سے جاری تنازعہ آپ کو یاد ہوگا۔ تاجروں اور صنعت کاروں کے خاندان میں جائیداد کا تنازع کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن آج ہم آپ کو ایک ایسی خاتون سے ملوانے جارہے ہیں، جس نے اپنے والد کی 7000 کروڑ کی جائیداد کو سنبھالنے سے انکار کردیا۔ بیٹی نے والد کے کاروبار میں دلچسپی نہیں دکھائی جس کی وجہ سے 30 سال پرانی کمپنی کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پیکیجڈ واٹر کمپنی بسلیری کے مالک رمیش چوہان اپنی کمپنی ٹاٹا کو فروخت کرنے جا رہے ہیں۔ رمیش چوہان بسلیری کو بیچنے کے اپنے فیصلے پر بہت جذباتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کمپنی کو جس طرح سے انہوں نے اب تک سنبھالا ہے اس کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ ان کی بیٹی جینتی چوہان کو اس کاروبار میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے انہیں اپنا کاروبار بیچنا پڑتا ہے۔بسلیری کے مالک رمیش چوہان کی اکلوتی بیٹی جینتی چوہان کی عمر 37 سال ہے۔ جینتی چوہان کے لنکڈ ان پروفائل پر دستیاب معلومات کے مطابق، وہ بسلیری انٹرنیشنل کی وائس چیئرپرسن ہیں۔ 24 سال کی عمر میں جینتی نے اپنے والد کے کاروبار میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔ انہوں نے 2011 میں بسلیری کے دہلی دفتر اور بعد میں ممبئی کے دفتر کا چارج سنبھالا۔ کمپنی کا دہلی دفتر ان کی قیادت میں شروع ہوا تھا۔