امین پور تالاب میں ہوئی تعمیرات کو نوٹس جاری کردی گئی
حیدرآباد۔شہر میں تالابو ں میں تعمیرات کے خلاف کاروائی کا حکومت نے آغاز کردیا ہے ۔ امین پور تالاب میں تعمیرات کو نوٹس جاری کردی گئی ہے۔ امین پور تالاب میں تعمیرات کے سلسلہ میں تالابوں کے تحفظ کیلئے جدوجہد کرنے والی تنظیموں کی جانب سے نیشنل گرین ٹریبونل میں درخواست داخل کرکے تالاب کے شکم اور مکمل سطح آب کے حدود پر تعمیرات کو برخواست کرنے کی اپیل کی تھی جس پر این جی ٹی نے سماعت کیلئے قبول کرکے حکومت سے استفسار کیا تھا کہ تالاب میں ناجائز قبضہ اور تعمیرات کے سلسلہ میں متعلقہ اداروں اور حکام کے علاوہ حکومت سے کیا کاروائی کی گئی ! چیف سیکریٹری سومیش کمار نے نیشنل گرینٹریبونل کی ہدایات موصول ہونے کے بعد 561عمارتوں کو نوٹس جاری کرکے واقف کروایا گیا کہ ان کی تعمیرات غیر قانونی ہیں اور حکومت نے ان کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان تعمیرات کو نوٹسوں کی اجرائی کے ساتھ ہی حیدرآباد میٹرو پولیٹن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے شہر ی حدود میں تمام تالابوں میں جاری تعمیرات اور قبضوں کی برخواستگی کیلئے اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ اگر نیشنل گرین ٹریبونل سے دیگر تالابوں پر قبضہ جات کے سلسلہ میں دریافت کیا جاتا ہے تو ایچ ایم ڈی اے اور دیگر ادارو ںکے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا جو این جی ٹی کو فراہم کی جاسکیں۔ حکومت کی جانب سے شہر میں سیلاب کے بعد تالابوں و نالوں پر قبضہ جات کو برخواست کروانے اقدامات کا اعلان کیا گیا اور مرکزی حکومت کی جانب سے قبضہ جات کو برخواست کرنے علیحدہ اتھاریٹی کے قیام کے اقدامات کرنے کی ہدایات موصول ہوچکی ہیں۔ شہر حیدرآباد میں سیلاب کی صورتحال کے بعد شہر کے بعض مقامات پر بلدی عہدیداروں کی جانب سے قبضہ جات کو برخواست کروانے کی مہم چلائی گئی لیکن اب جبکہ امین پور تالاب کے معاملہ میں این جی ٹی کے احکام موصول ہوچکے ہیں تو ان کی بنیاد پر حکومت کی جانب سے مزید کاروائی کا امکان ہے۔