ترون تیج پال نے گوا عدالت میں خودسپردگی کردی، کولوال جیل منتقل

   

پاناجی 14 ستمبر:(ایجنسیز) تہلکہ میگزین کے سابق ایڈیٹر ان چیف ترون تیج پال نے 2013 کے جنسی زیادتی کیس میں 10 سال کی سخت قید کی سزا بھگتنے آج 14 ستمبر کو گوا کی عدالت میں خودسپردگی کردی۔ترون تیج پال نے مپو سا کی ایڈیشنل سیشن عدالت کے سامنے خودسپردگی کی، جس کے بعد انہیں شمالی گوا کی کولوال سنٹرل جیل بھیج دیا گیا۔جیل جاتے ہوئے ترون تیج پال نے کہا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے، ہمیں یقین ہے کہ انصاف ضرور ہوگا۔25 اگست کو سپریم کورٹ نے تیج پال کو تین ہفتوں میں خودسپردگی کی ہدایت دی تھی تاکہ وہ 10 سال کی قید کی سزا شروع کرسکیں۔ سپریم کورٹ نے ان کی خودسپردگی سے استثنیٰ کی درخواست بھی مسترد کردی تھی۔سپریم کورٹ نے ان کی سزا اور مجرمانہ فیصلے کے خلاف دائر اپیل کو 22 ستمبر کو سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا ہے، تاہم اس کیلئے خودسپردگی کا سرٹیفکیٹ 21 ستمبر تک جمع کرانا ضروری ہے۔بمبئی ہائیکورٹ نے 6 اگست کو ترون تیج پال کو نومبر 2013 میں گوا کے ایک ہوٹل کی لفٹ میں اپنی جونیئر خاتون ساتھی سے زیادتی کے معاملے میں مجرم قرار دیا تھا۔ عدالت نے انہیں 10 سال کی سخت قید کی سزا سنائی اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے 2021 میں دی گئی بریت کو کالعدم قرار دے دیا۔ہائی کورٹ نے تعزیرات ہند (IPC) کی مختلف دفعات کے تحت انہیں مجرم قرار دیا، جن میں ریپ، جنسی ہراسانی اور خاتون کو کپڑے اتارنے پر مجبور کرنے کی نیت سے حملے سے متعلق دفعات شامل تھیں۔ عدالت نے 10 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ بھی عائد کیا، جسے متاثرہ خاتون کو ادا کرنے کی ہدایت دی گئی۔