انقرہ : صدر رجب طیب اردغان نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ شام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ہمارے مشترکہ جغرافیہ میں دہشت گردی سے پاک امن اور اعتماد کی فضا قائم رہنے کو یقینی بنائیں گے۔ صدر اردغان نے کل دارالحکومت انقرہ کا دورہ کرنے والے شامی صدر احمد شرا ع سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ” بحیثیت ترکیہ، جس طرح ہم نے اپنے شامی بھائیوں کو ان کے انتہائی مایوس کن اور مشکل دنوں میں تنہا نہیں چھوڑا، اسی طرح ہم نئے دور میں بھی انہیں ضروری تعاون فراہم کریں گے۔ جنابِ صدر نے کہا کہ ہم صدر شراع کے تاریخی دورے کو دونوں ممالک کے درمیان مستقل دوستی اور تعاون کے دور کے آغاز کے طور پر دیکھتے ہیں۔ترک صدر نے کہاکہ ہمارے ہمسایہ ملک شام کے بارے میں ہماری پالیسی کی بنیاد، شروع سے ہی اس ملک کی علاقائی سالمیت اور اتحاد کو برقرار رکھنے پر مبنی ہے۔جھے یقین ہے کہ یکجہتی کے ساتھ کام کرتے ہوئے، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہمارے مشترکہ جغرافیہ میں دہشت سے پاک امن اور اعتماد کی فضا قائم رہے ۔”اردغان نے مہمان صدر سے یہ بھی کہاکہ ہم داعش اور علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK جیسی تنظیموں کے خلاف جنگ میں شام کو ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔شام اور ترکیہ کے مابین تاریخی تعلقات اور مضبوط روابط پائے جانے پر توجہ مبذول کراتے ہوئے شراع نے کہا ہم ان تعلقات کو تمام شعبوں میں گہری اسٹریٹجک شراکت داری کی ماہیت دلانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں، ہم نے انسانی، اقتصادی، ثقافتی اور سماجی شعبوں میں اپنے مشترکہ تعاون کا آغاز کیا ہے۔علاوہ ازیںخطے میں سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے کے لیے ہم اہم سٹریٹجک فائلوں پر بھی مل کر کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد شام اور ترکیہ کے لیے پائیدار سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ہم نے بات چیت کے دوران، شمال مشرقی شام کی علاقائی سالمیت میں خطرہ تشکیل دینے والے خطرات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔