ترکی اور شام میں ہلاکتیں اب 29 ہزار سے بھی متجاوز

,

   

اب تک دوہزار سے زائد آفٹر شاکس ریکارڈ، زلزلہ متاثرین کو جرمنی میں آباد اپنے رشتہ داروں کے ساتھ رہنے کی اجازت

انقرہ : ترکی اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے 6 روز بعد دونوں ممالک میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر اب 29 ہزار سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد دگنی تک ہو سکتی ہے۔ ترکی اور شام میں آئے تباہ کن زلزلے کے 6 روز بعد دونوں ممالک میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر اب 29 ہزار سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد دگنی تک ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور اور ہنگامی امداد کے لیے رابطہ کار مارٹن گریفتھس ہفتہ کے روز زلزلے سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ترکی پہنچے۔ ترکی میں ہلاکتوں کی تعداد 24,517 ہو چکی ہے۔ پڑوسی ملک شام میں حکومت اور اپوزیشن کے زیر قبضہ علاقوں میں ہلاکتوں کی تعداد 3,553 ہے۔ تاہم شام میں ہونے والی ہلاکتوں کی یہ تعداد جمعہ تک کی ہے کیونکہ اس کے بعد سے کوئی نئے اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔ ترکی کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے سرکاری ادارے اے ایف اے ڈی کے مطابق پیر کی صبح پہلے زلزلے کے بعد سے اب تک وہاں دو ہزار سے زائد آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ جرمنی کی خارجہ اور داخلہ امور کی وزارتوں نے ترکی کے ایسے زلزلہ زدگان کو، جن کے رشتہ دار جرمنی میں مقیم ہیں، عارضی طور پر اپنے ایسے عزیزوں کے ساتھ رہنے کی اجازت دینے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ دونوں وزارتوں نے کاغذی کارروائی تیز کرنے اور ضروری سرکاری رکاوٹیں کم کرنے کے لیے ایک ٹاسک فورس بھی قائم کی ہے۔ وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے کہا، مقصد یہ ہے کہ ان کیسز کے لیے ویزا کے عمل کو زیادہ سے زیادہ سادہ بنایا جائے۔ اس کے علاوہ جرمن وزیر داخلہ نینسی فیزر نے کہا کہ یہ عمل باقاعدہ ویزا کے اجرا کے ساتھ کیا جائے گا، جو تیزی سے جاری کیے جائیں گے اور تین ماہ کی مدت کے لیے ہوں گے۔ فیزر نے ٹوئٹر پر لکھا، ہم جرمنی میں ترک یا شامی خاندانوں کے لیے یہ ممکن بنانا چاہتے ہیں کہ وہ آفت زدہ علاقوں سے اپنے قریبی رشتہ داروں کو جلد از جلد عارضی طور پر اپنے پاس بلا سکیں۔ خیال رہے کہ ترکی سے باہر ترک یا ترک نڑاد باشندوں کی سب سے بڑی تعداد جرمنی میں آباد ہے۔ شام کے لیے یورپی یونین کے مندوب نے دمشق پر زور دیا کہ وہ انسانی امداد کے مسائل پر سیاست نہ کرے۔ اس مندوب نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا جن کے مطابق یورپی یونین شامی متاثرین کو کافی مدد فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ڈین سٹوینیسکو نے روئٹرز کو بتایا، امداد فراہم نہ کرنے کا الزام لگانا بالکل غیر منصفانہ ہے جبکہ حقیقت میں ہم ایک دہائی سے مسلسل یہی کر رہے ہیں اور زلزلے کے نتیجے میں بحران کے دوران بھی ہم بہت کچھ کر رہے ہیں۔