انقرہ: ترکی میں فروری میں آنے والے زلزلے کے بعد تقریباً 60,000 شامی پناہ گزین اپنے گھروں کو لوٹ گئے ہیں۔ یہ اطلاع ترک کابینہ کے ایک وزیر نے دی۔ترک وزیر دفاع ہولوسی آقار نے بتایا کہ ترکی میں مقیم تقریباً 60 ہزار شامی اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “کسی بھی شامی نے غیر قانونی طور پر سرحدیں عبور نہیں کی ہیں۔” ہماری سرحدوں کی 24 گھنٹے نگرانی کی جاتی ہے ۔ترکی 3.6 ملین سے زیادہ شامیوں کو پناہ دیتا ہے ۔ یہ دنیا میں پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے ۔ یہ ملک بہت سے پناہ گزینوں کو سماجی خدمات، رہائش اور روزگار کے اجازت نامے فراہم کرتا ہے ۔درحقیقت ترکی اور شام میں مسلسل تین دن تک آنے والے زلزلوں کے بعد ترک حکومت نے پناہ گزینوں کے داخلی سفر پر عائد پابندیوں میں نرمی کی تھی تاکہ ان کیلئے کیمپوں اور آفت زدہ علاقوں سے باہر کے علاقوں میں بسنے میں آسانی ہو۔ترک حکام نے زلزلے سے متاثرہ 11 صوبوں میں مقیم شامی مہاجرین کو رضاکارانہ طور پر شمالی شام واپس جانے کی اجازت دینا شروع کر دیا ہے ۔ مہاجرین باب الحوا، باب السلام اور جرابلس سرحدی گزرگاہوں سے جا رہے ہیں۔ترکی اور شام دونوں میں 6 فروری کو ایک بڑے زلزلے میں 50,000 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے ، جو کہ ایک صدی میں خطے کی بدترین تباہی ہے ۔