کابینہ اجلاس میں فیصلہ، مرکز سے کشیدہ صورتحال پر مباحث
حیدرآباد۔/6ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کا اجلاس توقع ہے کہ 12 ڈسمبر سے شروع ہوگا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مرکز کی جانب سے تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کے رویہ کو اجاگر کرنے کیلئے اسمبلی اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی کابینہ کا اجلاس 10 ڈسمبر کو 2 بجے دن پرگتی بھون میں منعقد ہوگا جس میں اسمبلی اجلاس کی تاریخوں کو طئے کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسمبلی اجلاس پانچ دن یا پھر ایک ہفتہ تک جاری رہے گا۔ اجلاس میں ریاست کی معاشی صورتحال اور مرکزی حکومت کی مخالف تلنگانہ پالیسی پر مباحث کا امکان ہے۔ یونیورسٹیز کیلئے وائس چانسلرس کے تقررات، گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن کی جانب سے سرکاری بلز کی منظوری میں تاخیر، گورنر کی باز طلبی کیلئے اسمبلی میں قرارداد کے علاوہ تلنگانہ میں سی بی آئی، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور انکم ٹیکس کی کارروائیوں پر غور کیا جائے گا۔ چیف منسٹر کے دفتر کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں دھان کی خریدی، رعیتو بندھو فنڈز کی اجرائی، کمزور طبقات کیلئے مکانات کی تعمیر، دلت بندھو اسکیم اور اراضی رکھنے والے غریب خاندانوں کو مکان کی تعمیر کیلئے امداد سے متعلق اسکیم پر غور ہوگا۔ مرکز سے کشیدہ تعلقات اور ریاستی وزراء کے خلاف مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کی کارروائیاں اہم موضوع رہیں گی۔ واضح رہے کہ سی بی آئی نے لکر اسکام میں چیف منسٹر کی دختر اور رکن قانون ساز کونسل کویتا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تحقیقات کیلئے وقت مانگا ہے۔ کویتا کو سی بی آئی کی نوٹس کے بعد مرکز کے ساتھ تلنگانہ حکومت کے تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے اور چیف منسٹر کے سی آر نے G-20 سمٹ کے بارے میں طلب کردہ کُل جماعتی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ر