تلنگانہ اسمبلی اور کونسل کے بجٹ سیشن کا آج گورنر کے خطبہ سے آغاز

,

   

سیشن کے ہنگامہ خیز ہونے کا امکان، بی سی تحفظات اور ایس سی زمرہ بندی حکومت کا ایجنڈہ، عوامی مسائل پر گھیرنے اپوزیشن کی مساعی، کے سی آر شرکت کریں گے

حیدرآباد 11 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی و کونسل کا بجٹ سیشن کل 12 مارچ کو 11 بجے دن شروع ہوگا۔ گورنر جشنو دیو ورما دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ بجٹ سیشن تازہ ترین سیاسی صورتحال کے پیش نظر ہنگامہ خیز ثابت ہوسکتا ہے۔ گرائجویٹ اور ٹیچرس زمرہ کی ایم ایل سی نشستوں کے انتخابی نتائج کے پس منظر میں اپوزیشن بی آر ایس اور بی جے پی کی جانب سے عوامی مسائل پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ حکومت نے بجٹ کی پیشکشی کے علاوہ ایس سی زمرہ بندی اور پسماندہ طبقات کے لئے 42 فیصد تحفظات پر بلز کی منظوری پر توجہ مرکوز کی ہے۔ بجٹ سیشن کی خصوصیت یہ رہے گی کہ قائد اپوزیشن کے چندرشیکھر راؤ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ وہ اسمبلی کی کارروائی میں روزانہ حصہ لیں گے یا پھر گورنر کے خطبہ کے وقت موجودگی تک اُن کی حاضری محدود رہے گی۔ بجٹ سیشن کے ضمن میں اسپیکر جی پرساد کمار اور صدرنشین کونسل سکھیندر ریڈی نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں انتظامات کا جائزہ لیا۔ بجٹ سیشن چونکہ زائد ایام تک جاری رہتا ہے لہذا اسمبلی اور کونسل کے اطراف سخت سکیورٹی انتظامات کئے جارہے ہیں۔ اپوزیشن اور عوامی تنظیموں کی جانب سے چلو اسمبلی احتجاجوں سے نمٹنے کیلئے اضافی فورس تعینات رہے گی اور اسمبلی کے باب الداخلہ کے پاس بیاریکیٹس نصب کئے جائیں گے۔ اجلاس کے پہلے دن گورنر کے خطبہ کے بعد دوسرے دن 13 مارچ کو گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر پر مباحث ہوں گے جس کا جواب چیف منسٹر ریونت ریڈی کی جانب سے دیا جائے گا۔ ہولی تہوار کے پیش نظر 14 مارچ کو تعطیل رہے گی۔ اگر اسمبلی میں تحریک تشکر پر مباحث نہیں ہوپائے تو اُسے 15 مارچ کو بھی جاری رکھا جائے گا۔ گورنر کے خطبہ کے بعد بزنس اڈوائزری کمیٹی اسمبلی کے ایام کار اور پیش کئے جانے والے سرکاری اُمور کو طے کرے گی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق 17 مارچ کو ایوان میں ایس سی زمرہ بندی اور 18 مارچ کو پسماندہ طبقات کو 42 فیصد تحفظات کے بِل پر مباحث اور منظوری دی جائے گی۔ توقع ہے کہ 19 مارچ کو ریاستی بجٹ برائے مالیاتی سال 2025-26 ء پیش کیا جائے گا جو 3 لاکھ کروڑ پر مشتمل رہے گا۔ حکومت جاریہ ماہ کے اواخر تک بجٹ سیشن کو جاری رکھنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ دونوں ایوانوں میں حکومت اور برسر اقتدار پارٹی کا ایجنڈہ بی سی اور ایس سی رہے گا جبکہ بی آر ایس اور بی جے پی نے حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں پارٹیوں کے درمیان اگرچہ کوئی مفاہمت نہیں ہے تاہم امکان ہے کہ فلور کوآرڈینیشن کے ذریعہ دونوں اپوزیشن پارٹیاں حکومت کو گھیرنے کی کوشش کریں گی۔ گورنر جشنو دیو ورما کا خطبہ سیاسی پارٹیوں کے لئے حیرت انگیز ثابت ہوسکتا ہے۔ عام طور پر گورنر کا خطبہ ریاستی حکومت کی پالیسیوں کو اُجاگر کرتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے گورنر کا جو خطبہ تیار کیا ہے اُس میں مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ترقیاتی اسکیمات کے لئے مرکز کی جانب سے فنڈس کی عدم اجرائی کے معاملہ میں گورنر کے خطبہ میں مرکز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق بی آر ایس دور حکومت میں حاصل کئے گئے بھاری قرض کا گورنر کے خطبہ میں تذکرہ شامل رہے گا۔ عام طور پر گورنر کے خطبہ کو ریاستی حکومت تیار کرتی ہے اور گورنر کو اِس بات کا اختیار ہے کہ وہ اگر چاہیں تو اُس میں تبدیلی کریں۔ دیکھنا یہ ہے کہ جشنودیو ورما اپنے خطبہ میں کیا مرکزی حکومت کے خلاف ریمارکس کو برقرار رکھیں گے۔ سیاسی مبصرین کی نظریں گورنر کے خطبہ پر ہے اور برسر اقتدار پارٹی کو یقین ہے کہ گورنر حکومت کے تیار کردہ خطبہ کو پڑھیں گے۔ گورنر کے خطبہ کے دوران اپوزیشن کی جانب سے کسی بھی احتجاج سے نمٹنے کے لئے مارشلوں کی زائد تعداد کو ایوان میں متعین کیا جارہا ہے۔ 1

کانگریس مقننہ پارٹی کا آج اجلاس
حیدرآباد 11 مارچ (سیاست نیوز)کانگریس لیجسلیچرپارٹی کا اجلاس12مارچ کو 2بجے دن چیف منسٹر ریونت ریڈی کی صدارت میں اسمبلی کمیٹی ہال نمبر ایک میں منعقد ہوگا۔ اسمبلی بجٹ اجلاس میں پارٹی کی حکمت عملی طے کرنے کے علاوہ اپوزیشن کے الزامات اور حملوں کا جواب دینے کیلئے ارکان کو رہنمایانہ خطوط جاری کئے جائیں گے۔گورنر کے خطبہ کے بعد سی ایل پی اجلاس ہوگا ۔