تلنگانہ اسمبلی کی تاریخ کا سب سے مختصر مانسون سیشن

   


اجلاس کا آج آخری دن، سرمائی سیشن کی طوالت پر چیف منسٹر کے تیقن پر کانگریس کو بھروسہ نہیں
حیدرآباد 12 ستمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کو قانون ساز اسمبلی اور کونسل کے اجلاسوں کے انعقاد سے بہت کم دلچسپی رہی ہے۔ 2014 ء میں برسر اقتدار آنے کے بعد سے ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے دونوں ایوانوں کے اجلاس کے ایام کی تعداد میں بتدریج کمی دیکھی جارہی ہے۔ راج بھون سے کشیدگی کے نتیجہ میں ایک طرف گورنر سوندرا راجن کو اسمبلی سے خطاب سے تکنیکی بنیادوں پر روکنے میں کامیابی حاصل ہوئی تو دوسری طرف طویل اجلاسوں کے ذریعہ اپوزیشن کو حکومت پر تنقید کا موقع فراہم کرنے کے بجائے محدود ایام کے لئے اجلاس طلب کئے گئے۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ جب مانسون سیشن محض 3 دن کے لئے طلب کیا گیا۔ 6 ستمبر کو اجلاس کا پہلا دن تھا جو صرف 6 منٹ میں ختم کردیا گیا۔ 6 کا ہندسہ چیف منسٹر کے لئے نیک شگون کی حیثیت رکھتا ہے لہذا اجلاس کی تاریخ 6 طے کی گئی اور 2 سابق ارکان کو خراج پیش کرنے کے بعد 6 منٹ میں کارروائی ملتوی کردی گئی۔ اجلاس کے دوسرے دن آج برقی کی صورتحال پر مباحث پر چیف منسٹر کی تقریر رہی۔ کل 13 ستمبر اجلاس کا تیسرا اور آخری دن رہے گا۔ اپوزیشن کی جانب سے محض 3 دن کے لئے اجلاس طلب کرنے پر اعتراض کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے عنقریب سرمائی اجلاس 20 تا 25 دن کے لئے طلب کرنے کا تیقن تو دیا لیکن اپوزیشن تو کیا خود برسر اقتدار پارٹی کے ارکان اِس تیقن کی حقیقت سے واقف ہیں۔ گنیش وسرجن اور 17 ستمبر سقوط حیدرآباد تقاریب کا حوالہ دیتے ہوئے اجلاس کو محض 3 دن کے لئے محدود کردیا گیا ہے۔ اسمبلی اور کونسل میں وقفہ سوالات کے بجائے صرف کسی ایک مسئلہ پر مختصر مباحث کو ایجنڈہ میں شامل کیا گیا ہے۔ اجلاس سے حکومت کی عدم دلچسپی کے نتیجہ میں ایوان میں ارکان کی تعداد بھی کافی کم نظر آرہی ہے۔ اِسی دوران کانگریس ارکان اسمبلی نے سرمائی اجلاس 20 تا 25 دن کے لئے منعقد کرنے سے متعلق چیف منسٹر کے تیقن پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ کے سی آر وقتی طور پر اِس طرح کے تیقنات کے ماہر ہیں۔ گزشتہ 8 برسوں میں اسمبلی کا کوئی بھی اجلاس 20 تا 25 دن جاری نہیں رہا۔ لہذا چیف منسٹر کے تیقن پر بھروسہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ ر