٭ اقلیتوں کیلئے کئی اسکیمات میں رقم کی اجرائی تعطل کا شکار
٭ ہر سال استفادہ کنندگان کی تعداد میں گراوٹ کا سلسلہ جاری
٭ رقومات کہاں خرچ کی جا رہی ہیںاندازہ لگانا انتہائی مشکل
حیدرآباد۔22جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتی بجٹ کی حالت بھی زکواۃ کی طرح ہونے لگی ہے تقسیم تو ہورہی ہے لیکن ملت کو فوائد نظر نہیں آرہے ہیں۔ مجموعی طور پر اہل ثروت زکواۃ ادا تو کرتے ہیں لیکن زکواۃ کی ادائیگی کا مقصد پورا ہوتا نظر نہیں آتا‘ اسی طرح اقلیتوں کیلئے مختص کردہ بجٹ کی اجرائی تو حکومت کے دعوے کے مطابق کی جا رہی ہے لیکن اس سے اقلیتوں کی حالت میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے ۔حکومت سے اقلیتوں کیلئے بجٹ کی تخصیص اور اجرائی میں اس قدر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جا رہاہے تو پھر یہ بجٹ جا کہاں رہا ہے اور کون ان اسکیمات سے استفادہ کر رہے ہیں۔ حکومت سے گذشتہ 4برسوں کے دوران خرچ کئے گئے بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو تلنگانہ کے ہر مسلم شہری کو کم از کم 13ہزارروپئے محکمہ اقلیتی بہبود سے حاصل ہونے چاہئے لیکن حکومت کا یہ بجٹ کہاں خرچ کیا جا رہاہے اس کا اندازہ لگایاجانا مشکل نہیں ہے۔حکومت نے سال 2022-23 میں محکمہ اقلیتی بہبود کیلئے جملہ 1724کروڑ 69لاکھ کی تخصیص کا اعلان کیا تھا جس میں اب تک 1513 کروڑ70 لاکھ جاری کرنے کا دعویٰ کیا جا رہاہے ۔ کہا جا رہاہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کو 15 کروڑ جاری کئے جاچکے ہیں اور اس میں محکمہ سے اب تک محض 973 کروڑ 55لاکھ خرچ کئے گئے ہیں ۔ حکومت نے دعوؤں کے مطابق 2019-20میں 1344کروڑ77 لاکھ روپئے مختص کئے تھے اور 1536کروڑ 89لاکھ جاری کئے گئے لیکن ان میں خرچ 1270 کروڑ 77 لاکھ کا دکھایا جا رہاہے۔ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مالی سال 2019-20میں حکومت سے اضافی رقومات جاری کی گئی تھیں ۔ سال 2020-21 میں 1513کروڑ 46لاکھ کی تخصیص کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اور اس میں جملہ 1522 کروڑ 5 لاکھ 97 ہزار کی اجرائی کا دعویٰ کیا جا رہاہے ۔ کہا جار ہاے کہ سال 2020-21 میں اضافی بجٹ کی تخصیص عمل میں لائی گئی تھی لیکن اخراجات کے معاملہ میں اگر مشاہدہ کیا جائے تو محض1093کروڑ89لاکھ خرچ کئے گئے اسی طرح مالی سال 2021-22 کے دوران 1606 کروڑ39لاکھ کی تخصیص کی گئی جس میں 1646 کروڑ22لاکھ کی اجرائی اور 1286 کروڑ 38 لاکھ کے اخراجات پیش کئے گئے اور یہ دعویٰ کیا جا رہاہے اس مدت میں بھی اضافی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ مجموعی اعتبار سے حکومت سے محکمہ اقلیتی بہبود کیلئے گذشتہ 4برسوں میں یعنی جاریہ معیاد میں 6189 کروڑ 31 لاکھ کی تخصیص اور 6219 کروڑ 4 لاکھ 7ہزار کی اجرائی کا دعویٰ کیا گیا اور مجموعی خرچ 4624 کروڑ 59 لاکھ دکھایا جا رہاہے اس کے باوجود حکومت کی بیشتر اسکیمات میں درخواست گذاروں ںکی درخواستوں کی یکسوئی نہ ہونے کی شکایات ہیں۔ چیف منسٹر اوورسیز اسکالرشپس کیلئے داخل درخواستوں کی یکسوئی میں محکمہ اقلیتی بہبود کی تیار کی گئی تفصیل کے مطابق گذشتہ 4 برسوں میں 3711 درخواستیں ملی ہیں اور ان میں 1537 درخواست گذاروں کو منتخب کرکے اسکالر شپس کی منظوری کی گئی ہے اور 1060 درخواست گذاروں کو رقومات کی اجرائی عمل میں لائی جاچکی ہے اس طرح 477درخواستیں محکمہ اقلیتی بہبود کے پاس زیر التواء ہیں۔ محکمہ کے دعوے کے مطابق مالی سال 2019-20اور 2020-21کے منظورہ درخواستیں زیر التواء نہیں ہیں جبکہ مالی سال 2021-22 کی جملہ 227 اور سال 2022-23کی 250 درخواستیں محکمہ کے پاس زیر التواء ہیں۔محکمہ اقلیتی بہبود کے دعوے میں کس حد تک صداقت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کئی درخواست گذار جنہیں ایس ایم ایس سے کھاتوں میں رقومات کی منتقلی کی اطلاع ملی ہے انہیں اب تک رقم نہیں پہنچ پائی ہے اس بات کی مسلسل شکایت کرنے والوں میں 2020 سے 2022کے اختتام تک کے طلبہ شامل ہیں جو رقومات کے منتظر ہیں۔ حکومت کی اسکیم ’شادی مبارک‘ میں حکومت کا دعویٰ ہے کہ سال 2019سے اب تک 1 لاکھ 14 ہزار 464 درخواست گذاروں کو تحت رقومات جاری کی گئی ہیں جبکہ 1 لاکھ 23ہزار958 درخواستیں موصول ہوئیں ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو سال 2019 سے شادی مبارک اسکیم کے استفادہ کنندگان کی تعداد میں بتدریج گراوٹ آنے لگی ہے ۔ سال 2019-20 میں 36ہزار 311 استفادہ کنندگان کو اس اسکیم کے تحت رقومات جاری کی گئی تھیں جبکہ 2020-21کے دوران یہ تعداد گھٹ کر 29 ہزار 258 ہوگئی ‘ اسکے بعد سال 2021-22 کے دوران یہ تعداد 29 ہزار 887 ریکارڈ کی گئی اور 2022-23 کے دوران اس تعداد میں 10ہزار کی گراوٹ آئی ہے اور جاریہ سال محض 19ہزار 8 افراد کو اسکیم کے ذریعہ رقومات کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہیں۔م