محکمہ تعلیم کے عملہ کو بی ایل اوز مقرر کرکے تربیت دینے کا منصوبہ ۔ سیاسی جماعتوں کو متحدہ جدوجہد شروع کرنے کی ضرورت
حیدرآباد 21جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں بھی فہرست رائے دہندگان کی تنقیح کا آغاز کردیا گیا ہے!الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق ملک کی مختلف ریاستوں میں فہرست رائے دہندگان کی تنقیح کے کام شروع کئے جاچکے ہیں اور تلنگانہ میں چیف الکٹورل آفیسر کی نگرانی میں ان کے آغاز کا منصوبہ ہے ۔ تلنگانہ کے مختلف محکمہ جات بالخصوص محکمہ تعلیم میں برسر کار عملہ کو ووٹر لسٹ کی تنقیح کی ذمہ داریاں تفویض کی جانے لگی ہیں اور انہیں بوتھ لیول آفیسرز(بی ایل او) کے طور پر نامزد کرکے تربیت فراہم کی جانے لگی ہے ۔ ذرائع کے مطابق شہر و ریاست کے دیگر اضلاع میں بی ایل اوز کی نامزدگی کے ذریعہ تربیت کے اقدامات کئے جا رہے ہیں تاہم کہا گیا کہ ریاست میںادارۂ جات مقامی کے انتخابات کے پیش نظر ریاستی الیکشن کمیشن سے یہ اقدامات کئے جا رہے ہیں جبکہ ذرائع کا کہناہے کہ شہری علاقوں بالخصوص جی ایچ ایم سی حدود میں انتخابات کیلئے ابھی وقت ہے لیکن اس سے قبل فہرست رائے دہندگان کی تنقیح کے ذریعہ متوفی ‘ منتقل ‘ اضافی ‘ اور دیگر ان رائے دہندوں کے ناموں کو حذف کرنے اقدامات کئے جا ئیں گے جو کہ غیر مجاز طور پر ووٹر لسٹ میں شامل ہیں۔ بتایا گیا کہ 1987 تا 2002 فہرست رائے دہندگان میں شامل تمام ناموں کی تنقیح کا الیکشن کمیشن سے فیصلہ کیاگیا اور اس مدت میں جن ووٹرس کا فہرست رائے دہندگان میں اندراج کیاگیا ان کی اور ان کے دستاویزات کی جانچ کی جا رہی ہے جس کے نتیجہ میں تلنگانہ عوام میں بھی تشویش پائی جانے لگی ہے کیونکہ بہار اور آسام کے حالات کو دیکھتے ہوئے شہریوں میں تشویش کی لہر ہے کیونکہ ووٹر لسٹ میں موجود ناموں کی تنقیح کے نام پر رائے دہندوں سے برسوں پرانے دستاویزات طلب کئے جا رہے ہیں اور سیاسی جماعتوں اور قائدین کی جانب سے اس کی مخالفت کی جا رہی ہے لیکن عوام میں یہ پیغام بھی دیا جا رہاہے کہ وہ اپنے دستاویزات تیاررکھیں جبکہ اگر سیاسی جماعتیں متحدہ طور پر الیکشن کمیشن کے اقدامات کی مخالفت کرکے قومی سطح پر احتجاج کا اعلان کرتی ہیں تو ہندوستانی شہری جو تنقیح کے نام پر اس ہراسانی کا شکار ہورہے ہیں وہ بھی سڑک پر نکل کر احتجاج کرنے تیار ہوں گے۔ مختلف ریاستوں میں جاری الیکشن کمیشن کی کارروائی میں لاکھوں ناموں کو ووٹر لسٹ سے حذف کرنے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور یہ کہا جارہا ہے کہ فہرست میں نام شامل کروانے والے افراد رائے دہی میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔3