تلنگانہ میں بی جے پی کا کوئی وجود نہیں ہے : کویتا

   

کانگریس عوامی تائید سے محروم ، بی آر ایس تیسری مرتبہ حکومت تشکیل دے گی
حیدرآباد 21 فروری ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کی رکن کونسل کے کویتا نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کی کوئی طاقت نہیں ہے ۔ کانگریس عوامی اعتماد سے محروم ہوگئی ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر کی قیادت میں بی آر ایس مسلسل تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کرکے جنوبی ہند میں نئی تاریخ بنائے گی ۔ کے کویتا نے قومی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی فرقہ پرستی کا صرف بی آر ایس مقابلہ کرسکتی ہے ۔ دو مرتبہ راہول گاندھی اور نریندر مودی میں مقابلہ ہوا ہے ۔ بی جے پی کو شکست دینے میں کانگریس ناکام ہوگئی ہے ۔ دراصل کانگریس بڑی علاقائی جماعت میں تبدیل ہوگئی ہے ۔ بی آر ایس ۔ ڈی ایم کے ۔ بی جے ڈی ۔ ٹی ایم سی ۔ عام آدمی پارٹی کو شمار کرلیا جائے تو ان کے پاس کانگریس سے زیادہ نشستیں ہیں ۔ ملک میں تقریبا 4 ہزار ارکان اسمبلی ہیں جس میں کانگریس کے صرف 695 ارکان اسمبلی ہیں ۔ کانگریس کا اقتدار تین ریاستوں تک محدود ہے ۔ دو تا تین ریاستوں میں دوسری جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرکے کانگریس اقتدار میں ہے ۔ ان ریاستوں میں بھی کانگریس ارکان اسمبلی کی تعداد کم ہے ۔ کانگریس کو بی جے پی کا متبادل قرار دینے سے بی جے پی کا ہی فائدہ ہوگا ۔ بی جے پی کا قومی سطح پر مقابلہ کرنے ٹی آر ایس کو قومی جماعت بی آر ایس میں تبدیل کیا گیا ۔ کویتا نے کہا کہ ان کی پارٹی ٹی آر ایس ہرگز بی جے پی سے نہیں ڈرتی ۔ بی جے پی نے 8 ریاستوں میں ارکان اسمبلی کو خرید کر حکومتوں کو اقتدار سے محروم کردیا ۔ تلنگانہ میں بی جے پی کی سازش کو ناکام بنادیا گیا ہے ۔ تلنگانہ میں چار وزراء بی آر ایس ارکان پارلیمنٹ ، ارکان کونسل ، ارکان اسمبلی کے خلاف آئی ٹی ، سی بی آئی ، انکم ٹیکس جیسی تحقیقاتی ایجنسیوں نے دھاوے کئے ۔ جہاں انتخابات ہوتے ہیں ان ریاستوں میں مودی سے قبل تحقیقاتی ایجنسیاں داخل ہوجاتی ہیں ۔ بی جے پی دستوری و قانونی اداروں کا بیجا استعمال کرکے مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کررہی ہے ۔ ن