771 نئے خانگی اسکولس کا اضافہ (UDISE+) کی چونکا دینے والی رپورٹ
حیدرآباد۔11۔اگسٹ (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں سرکاری تعلیمی اداروں کی صورتحال دن بہ دن تشویشناک ہوتے جارہی ہے ۔ محکمہ تعلیم کے یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن پلس (UDISE+) کے حالیہ جاری کردہ اعداد و شمار سے یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ تعلیمی سال کے مقابلہ میں سال 2025-26 کے دوران ریاست میں 1969 سرکاری اسکولس بند ہوگئے ہیں ۔ دوسری جانب خانگی اسکولس کی تعداد میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے ۔ یو ڈی آئی ایس ای پلس کی رپورٹ کے مطابق سال 2025-26 کے دوران ریاست میں 771 نئے خانگی اسکولس کا ا ضافہ ہوا ہے ۔ گزشتہ 10 برسوں کا جائزہ لیا جائے تو تلنگانہ میں خانگی اسکولس کی تعداد میں 41 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ اس وقت ریاست میں اسکولس جانے والے جملہ طالب علموں کا 64.5 فیصد حصہ حانگی اسکولس میں زیر تعلیم ہے جو کہ عوام کے خانگی تعلیم کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کو ظاہر کرتا ہے ۔ کوویڈ وبائی مرض کے دوران والدین کی معاشی مشکلات کے باعث سرکاری اسکولس میں طلبہ کے داخلوں میں وقتی طور پر بڑا ا ضافہ دیکھا گیا تھا لیکن اب یہ عمل مکمل طور پر گھٹ گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق سرکاری اسکولس میں طلبہ کے داخلے کی شرح میں 8 فیصد کی کمی آئی ہے ۔ معیاری سہولیات اور پرکشش پالیسیوں کی وجہ سے خانگی اسکولس والدین اور طلبہ کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق سال2016-17 میں ریاست تلنگانہ میں سرکاری اسکولس کی جملہ تعداد 43,134 بھی جو سال 2025-26 تک گھٹ کر 41,762 رہ گئی ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ گزشتہ 10 سال کے دوران تقریباً 3.2 فیصد سرکاری اسکول ہمیشہ کیلئے بند ہوچکے ہیں ۔2/k/i