افراط زر کی شرح 4.92 ریکارڈ، مرکزی وزارت اقتصادیات و منصوبہ بندی کی رپورٹ
حیدرآباد۔14فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں مہنگائی کی شرح میں اچانک اضافہ کے بعد افراط زر کی شرح 4.92 ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ ملک بھر میں تمام ریاستوں میں سب سے زیادہ ہے۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران منفی افراط زر کی شرح ریکارڈ کئے جانے کے بعد اچانک افراط زر کی شرح میں ریکارڈ کیا جانے والا یہ اضافہ مہنگائی میں اضافہ کا سبب بنے گا۔ مرکزی وزارت اقتصادیات ومنصوبہ بندی کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ جنوری کے دوران تلنگانہ میں سب سے زیادہ مہنگائی ریکارڈ کی گئی ہے اور افراط زر کی جو شرح ریکارڈ کی گئی ہے وہ 4.92 فیصد تک پہنچنے کے بعد یہ کہا جانے لگا ہے کہ تلنگانہ میں مہنگائی اور قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔ تلنگانہ میں گذشتہ چند ماہ کے دوران منفی افراط زر کی شرح ریکارڈ کئے جانے کے بعد مختلف گوشوں سے تشویش کا اظہار کیا جانے لگا تھا اور دیگر ریاستوں کی صورتحال سے تلنگانہ کا موازنہ کیا جارہا تھا لیکن اب جبکہ ریاست میں افراط زر کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے تو اس کے اثرات کے متعلق ابھی کوئی واضح رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی ہے جبکہ صارفین کی قوت خرید اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ لینے کے بعد جاری کی گئی اس رپورٹ میں تلنگانہ میں مہنگائی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ قومی سطح پر ماہ جنوری کے دوران افراط زر کی شرح 2.75 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے اور ماہ ڈسمبر کے اعداد وشمار کا جائزہ لیا جائے تو ملک میں افراد زر کی شرح 1.33 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی ۔جنوری کے دوران ریاست تلنگانہ میں افراط زر کی شرح 1.77 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی لیکن اس میں جنوری کے دوران اچانک 3 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے جو کہ 4.92 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ مرکزی وزار ت اقتصادیات و منصوبہ بندی کی جانب سے جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2011-12تا2023-24 کے دوران ملک بھر میں صارفین کے خریداری اور قوت خرید کے رجحانات میں آنے والی تبدیلیوں کو شامل کرتے ہوئے تیار کی گئی اس رپورٹ میں کئی ریاستوں میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی جانے لگی ہیں۔نئے اصولوں کے مطابق کئے گئے سروے پر مبنی رپورٹ میں تلنگانہ ملک بھر میں سرفہرست ہے جہاں افراط زر کی شرح 4.92 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ اسی مدت میں کرناٹک میں 3.67 فیصد‘ تمل ناڈو میں 3.36 فیصد‘ راجستھان میں 3.17 فیصد کے علاوہ پڑوسی تلگو ریاست آندھراپردیش میں افراط زر کی شرح 2.99فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔تلنگانہ کے دیہی علاقوں میں افراط زر کی شرح ریاست کے شہری علاقوں سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ 5.19 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 4.72 ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ مجموعی شرح کے قریب ہے۔ملک میں ماہ ڈسمبر کے دوران جو افراط زر کی شرح ریکارڈ کی گئی تھی اس وقت کیرالہ میں افراط زر کی شرح سب سے زیادہ 9.49 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ کرناٹک میں یہ شرح 2.90 فیصد تھی اسی طرح آندھراپردیش میں یہ شرح 2.71 فیصد رہی اور تمل ناڈو میں 2.67 فیصد یہ شرح ریکارڈ کی گئی تھی اور جموں وکشمیر میں افراط زر کی شرح 2.26 ریکارڈ کی گئی تھی ۔تلنگانہ میں ریکارڈ کی جانے والی افراط زر کی شرح جو کہ ریزرو بینک آف انڈیا کی متعین کردہ شرح 2تا3 فیصد سے زیادہ اضافہ تشویش کا باعث ہے کیونکہ اس طرح کے اضافہ کے بعد قیمتوں میں اضافہ کا دباؤ بڑھنے لگتا ہے اور عوام پر قیمتوں میںہونے والے اس اضافہ کا راست بوجھ عائد ہونے لگتا ہے جس پر قابوپانے کے اقدامات کے لئے فوری طور پر معاشی اصلاحات کے ذریعہ عوام کو راحت پہنچانے کے اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں۔صارفین کے اخراجات میں غذائی اشیاء پر کئے جانے والے خرچ کے علاوہ دیگر امور کو بھی اس رپورٹ میں شامل کیاگیا ہے اس کے علاوہ مزید تفصیلات بھی رپورٹ میں شامل کی گئی ہیں جو کہ تلنگانہ میں افراط زر کی شرح میں اضافہ کا سبب بنی ہوئی ہے۔3