تلنگانہ میں وسط مدتی چناؤ کی قیاس آرائیاں پھر ایک بار تیز

,

   

کابینی اجلاس میں چیف منسٹرکا اظہار خیال پارٹی میں موضوع بحث، مارچ تک ترقیاتی کام مکمل کرنے کی ہدایت
حیدرآباد۔/11ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کابینہ کے اجلاس کے بعد برسراقتدار بی آر ایس میں وسط مدتی انتخابات کی قیاس آرائیاں تیز ہوچکی ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کے سی آر نے کابینی اجلاس میں جن خیالات کا اظہار کیا اس کی بنیاد پر پارٹی قائدین یہ پیش قیاسی کررہے ہیں کہ اسمبلی کے انتخابات مقررہ وقت سے قبل ہوسکتے ہیں۔ ریاست میں شہری اور دیہی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر کا کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ مارچ سے قبل سڑکوں کی تعمیر اور مرمت کا کام مکمل کرلیا جائے۔ حکومت مارچ تک سڑکوں کیلئے فنڈز جاری کرے گی اور عہدیداروں کو فنڈز کا موثر استعمال کرنا چاہیئے۔ مارچ کے بعد بارش کا موسم شروع ہوجائے گا اور اس کے بعد الیکشن آئیں گے۔ چیف منسٹر کے ان ریمارکس پر پارٹی حلقوں میں کافی بحث کی جارہی ہے۔ قائدین کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر نے وسط مدتی انتخابات کا وزراء کو اشارہ دیا ہے۔ دیگر قائدین کا کہنا ہے کہ موسم بارش کے بعد انتخابات کا مطلب مقررہ وقت پر الیکشن ہے کیونکہ عام طور پر بارش ستمبر اور اکٹوبر تک جاری رہتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کابینی اجلاس میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے فلاحی اسکیمات کے بارے میں بعد میں بات کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے ایک ریاستی وزیر کو فلاحی اسکیمات پر عمل آوری پر تبصرہ سے روک دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ دلت بندھو اسکیم کے دوسرے مرحلہ کا ڈسمبر میں آغاز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے چیف منسٹر نے ہر اسمبلی حلقہ میں 500 استفادہ کنندگان کی نشاندہی کا مشورہ دیا۔ دلت بندھو اسکیم پر توقع کے مطابق تفصیلی مباحث نہیں ہوسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے اراضی تنازعات اور خاص طور پر جنگلاتی اراضی کے مسئلہ پر وزراء کو اظہار خیال سے روک دیا اور کہا کہ بعد میں کسی اور موقع پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس کی خصوصیت یہ رہی کہ اسمبلی اجلاس سے متعلق تاریخوں کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا حالانکہ خود چیف منسٹر نے ڈسمبر کے اوائل میں اسمبلی اجلاس طلب کرنے کا اشارہ دیا تھا تاکہ مرکزی حکومت کی تلنگانہ کے ساتھ ناانصافیوں کو اجاگر کیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ جاریہ ہفتہ اسمبلی اجلاس کے انعقاد کا کوئی امکان نہیں ہے۔ چیف منسٹر 14 ڈسمبر کو نئی دہلی میں بی آر ایس کے نئے آفس کا افتتاح کرنے والے ہیں ایسے میں وہ دہلی میں کچھ دن تک قیام کرسکتے ہیں۔ اسمبلی کا سرمائی اجلاس 20 ڈسمبر کے بعد طلب کیا جاسکتا ہے۔ ر